کرن تعبیر نے پاکستانی ڈراموں کو نئی ڈگر پر ڈال دیا

کراچی سے ثاقب اسلم دہلوی کی رپورٹ۔مسلسل ایک سال سے لیڈ رول کررہی ہوں,لاہور میں پیدا ہوئی وہیں پڑھا لکھا,ابتدا بھی اپنے کام کی لاہور سے کی,تارے ان کبوت میں ایک کلاسیکل رقاصہ کا کردار کیا جس نے مجھے شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا,ڈائریکٹر مظہر معین کی زندگی بھر شکر گزار رہونگی جنہوں نے مجھے بہت کچھ سے زیادہ سکھایا جو میرے قدم قدم پر کام آرہا ہے ,ان دنوں مختلف شوٹنگز میں مصروف ہوں۔خصوصی ملاقات میںانہوں نے بتایا میں مسلسل چار سالوں سے محنت کررہی ہوں تاکہ فن کہ حوالے سے اپنی منفرد شناخت بنا سکوں میں نے یہاں تک پہنچنے کیلئے بہت سخت محنتیں کی ہیں کیونکہ کامیابیوں کو ساتھ رکھنے کیلئے کام کو حقیقت میں ڈھال کر پیش کرنا ہوتا ہے تاکہ دیکھنے والوں کو کام اپنی طرف متوجہ کرتا رہے اپنے شروعاتی کیریئر کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج سے تقریباً چار سال قبل اپنے کیریئر کی شروعات ایف ایم لاہور سے کی جس کی اجازت اپنے والد صاحب سے لینے کیلئے بہت ڈانٹ بھی سننے کو ملی مگر آگے تو بڑھنا تھا اسلئے پرواہ نہیں کی اور اجازت ملتے ہی ان دنوں ریڈیو پر اپنا آڈیشن بھی دے دیا کیونکہ اس دوران ریڈیو کو ایک نئی آواز کی تلاش تھی میں نے سوچا میں بھی دے دیتی ہوں آڈیشن شاید کامیابی مل جائے اور ویسے بھی میں بچپن ہی سے ریڈیو بہت شوق سے سنتی تھی اور کچھ دنوں بعد مجھے سلیکشن کی کال بھی آگئی اور یوں میں نے ریڈیو سے اپنے کیرئیر کی شروعات مارننگ شو کہ زریعے کی پھر رات کو ریڈیو سے غزل پروگرام شروع کردیا اسکے بعد دوپہر کا پروگرام مجھے مل گیا اور یوں مجھے آگے بڑھنے کی چاہ بڑھتی رہی اسی دوران چھپکے سے میں نے اے ٹی وی پر کوکنگ پروگرام بنا والد صاحب کی اجازت کہ کرلیا اور پہلی بار کیمرہ سامنے آتے ہی میں بیہوش ہوگئی تھی جب آن ائیر ہوا کوکنگ پروگرام تو میں والد صاحب کی نظر میں آگئی اور جتنی ڈانٹ سننی تھی اسی دوران سن لی اس کہ بعد چھوٹے کمرشلز کئے چھوٹے کریکٹر ڈراموں میں پلے کئے میری قابلیت ہی ہمیشہ میری سفارش بنی پھر میں نے مختلف شخصیات کی پیروڈی ڈاکٹر یونس بٹ کی خواہش پر ہم سب امید سے ہیں پر کرنا شروع کی جس نے مجھے ایک منفرد پہچان دی ڈاکٹر یونس کو لگتا تھا میں ثانیہ مرزا سے مشابہت رکھتی ہوں ہمیشہ ہی سے اپنے کام میں نکھار پیدا کیا اور جو مجھے کردار ملے اس پر مکمل حاوی رہنے کی کامیاب کوشش کرتی رہی کیونکہ شوبز ہی نہیں کسی بھی شعبے میں ایک منفرد شناخت بنانے کیلئے بہت سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے جو میں اپنے ابتدائی دور سے سے کرتی چلی آرہی ہوں ۔کرن تعبیر کا کہنا تھا کہ میں اب تک اپنے اللہ کہ فضل و کرم سے 45 سے زائد ٹی وی ڈرامے اور ایک فلم بھی کرچکی ہوں دونوں ہی جگہ میرے کرداروں کو کافی سراہا گیا اور مجھے بہترین رسپانس بھی ملا مگر میں اب بھی بہت منفرد کردار کرنے کی خواہش مند ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے مجھ میں بہت سی صلاحیتیں موجود ہیں جو منفرد اسکرپٹ ملنے پر ضرور سامنے آئیں گی کردار کوئی چھوٹا بڑا نہیں ہوتا بس کریکٹر مضبوط ہونا ضروری ہوتا ہے۔ایک سوال کہ جواب میں ان کا مزید کہنا تھا کام ایک ہی بار سفارش پر مل سکتا ہے مگر دوسری بار آپکی قابلیت فیصلہ کرتی ہے کہ آپ کام کرسکتے ہو یا نہیں آجکل جو نیوٹیلنٹ کام کررہا ہے اس میں بہت سے لوگ کام بہت ہی بہترین طریقے سے کررہے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہیں جن کو آگے بڑھنے کیلئے وقت درکار ہے میری بہت حوصلہ شکنی کی گئی مگر میں اپنی محنت اپنے یقین اپنے کام کہ بل پر سب کا مقابلہ کرتی رہی کیونکہ آپ کسی کو جواب دینا چاہتے ہونا اپنے کام سے دو اتنا بہترین کام کرو کہ وہ آپ کا جواب بن جائے کسی سے کوئی حرص نہیں رکھتی سچ بولتی ہوں تھوڑی بہت ضدی ہوں پر ضد ہمیشہ صحیح کام کیلئے میری ہوتی ہے ۔اچھا ایف ایم پر کام کرنا آسان لگا یا ٹی وی پر بات دراصل یہ ہے کہ ایف ایم تو بلکل الگ جگہ ہے یہاں آپ کی قابلیت کا دارومدار تلفظ ادائیگی اور آواز پر ہوتا ہے جو آپ بولتے ہو اس میں حقیقت کا عکس آپ کی آواز سے چھلکنا چاہئے جبھی آپ لوگوں کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہو کوئی غلطی بھی نہیں کرسکتے لائیو شو آن ائیر جو ہوتا ہے اور ٹی وی ڈراموں میں دوران ریکارڈنگ چھوٹی چھوٹی غلطیاں صحیح کی جاسکتی ہیں۔میں سب سے زیادہ اپنے شوہر کو اپنی کامیابیوں کا کریڈٹ دیتی ہوں ان سے شادی کہ بعد میری کامیابی کو اللہ نے کامیابیوں میں تبدیل کردیا ہم دونوں کہ درمیان پیار اور بھروسے کا مضبوط رشتہ قائم ہے ایک دوسرے کو ہم خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں میاں بیوی تو ایک سکے کہ دو رخ ہوتے ہیں۔ایک سوال کہ جواب میں انہوں نے بولا کہ موجودہ دور کہ کچھ نئے فنکار شارٹ کٹ کہ چکر میں مصروف ہیں اور رات و رات شہرت حاصل کرنے کیلئے شارٹ کٹ استعمال کررہے ہیں میں کہنا چاہتی ہوں کہ اگر یہ فنکار اپنی تمام تر توجہ اپنے کام پر مرکوز رکھیں تو ہوسکتا ہے کامیابی انکی مقدر بن جائے کیونکہ شارٹ کٹ سے اپنائے ہوئے راستے کبھی ترقی کی جانب نہیں جاتے ہاں وقتی ترقی مل ہی جاتی ہے مگر کیا فائدہ ایسی ترقی کا جو ایک برے خواب کی مانند ہو اور کسی لمحے آپ سے دور ہوجائے ۔اگر فلموں سے آفرز ہوتی ہیں تو کام کرنا پسند کریں گی جی میں ایک فلم جیون ہاتھی میں کام کرچکی ہوں جس کی کاسٹ میں نصرالدین شاہ حنادلپزیر کانام بھی سرفہرست تھا مجھے ان سب سے سیکھنے کو بہت کچھ ملا اچھا لگا کام کرکہ اور مزیدفلموں میں کام کرنے کی آفرزہوئیں تو میں ضرور قبول کرونگی کیونکہ فلموں میں کام کرنے کی خواہش ہر فنکار کی ہوتی ہے مگر میری ایک شرط اسکرپٹ کا معیاری ہونا ہوگی کردار مضبوط ہونا چاہئے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.