جگر کے مسائل ظاہر کرنے والی نشانیاں کیا کیا ہیں؟ جانیے

کراچی جدت ویب ڈیسک :رپورٹ آصف خان۔۔۔۔ جگر کے مسائل ظاہر کرنے والی نشانیاں کیا کیا ہیں آج ہم آپ کو بتائیں گے جگر انسانی جسم کے ان حصوں میں سے ایک ہے جن کو عام طور پر اُس وقت تک سنجیدہ نہیں لیا جاتا جب تک وہ مسائل کا باعث نہیں بننے لگتے اور بعض اوقات تو بہت تاخیر بھی ہوجاتی ہے۔ جگر کا درست طریقے سے کام کرنا متعدد وجوہات کے باعث اچھی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے تاہم اس کی بڑی اہمیت یہ ہے کہ ہم جو کچھ بھی کھاتے ہیں اسے ہضم کرنے کے لیے جگر کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو اس میں کسی بھی قسم کی خرابی یا بیماری کی صورت میں جو علامات سامنے آتی ہیں وہ بھی اکثر افراد نظر انداز کردیتے ہیں۔یہاں جگر کو نقصان پہنچنے کی ایسی ہی خاموش علامات کا ذکر کیا گیا ہے جن سے واقفیت ہر ایک کے لیے ضروری ہے۔معدے میں گڑبڑ۔۔۔۔۔۔ دل متلانا اور قے آنا جگر میں خرابی کی ابتدائی علامات ہوسکتی ہیں جو عام طور پر ڈپریشن، فوڈ پوائزننگ اور آدھے سر کے درد جیسے امراض کے ساتھ بھی سامنے آتی ہیں، تاہم جگر کے امراض میں ہر وقت دل متلاتا رہتا ہے جو جگر میں نقصان کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا جب میٹابولزم اور نظام ہاضمہ میں جگر کی خرابی کی وجہ سے تبدیلیاں آتی ہیں، اگر ہر وقت متلی، قے اور معدے میں خرابی کی شکایت ہو تو طبی مدد کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
ہر وقت تھکاوٹ۔۔۔۔۔۔۔ جگر پر چربی چڑھنے کی کوئی جسمانی علامت نہیں ہوتی اور بظاہر خون کے ٹیسٹ یا جگر کے معائنے کے بغیر اس کی شناخت ممکن نہیں ہوتی، مگر جگر کے امراض کی شدت بڑھ رہی ہو تو تھکاوٹ اور کمزوری جیسی علامات ضرور سامنے آسکتی ہیں۔ اگر آپ کو ہر وقت تھکاوٹ اور کمزوری کا احساس ہوتا ہے جبکہ ماضی میں کبھی ایسا نہ ہوا ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر کے پاس جاکر معائنہ کرانا چاہیے۔ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کے 11 بڑے نقصانات یہ تو اب کافی حد تک لوگوں کو معلوم ہوچکا ہے کہ جسمانی سرگرمیوں سے دوری یا دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا موٹاپے، ذیابیطس اور ذہنی امراض کا باعث بن سکتا ہے مگر یہ عادت آپ کی مجموعی صحت کے لیے جتنی تباہ کن ہے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔درحقیقت طبی ماہرین تو اسے صحت کے لیے بہت زیادہ چینی اور سیگریٹ کے استعمال جتنا ہی خطرناک قرار دیتے ہیں۔تو جانیے کہ یہ عادت آپ کو کن کن امراض کا شکار بناسکتی ہے۔جگر کے امراض۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2015 میں سامنے آنے والی ایک جنوبی کورین تحقیق میں بتایا گیا کہ زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا یا سست طرز زندگی دونوں جگر بڑھنے یا اس پر چربی چڑھنے کے امراض کا باعث بن سکتے ہیں۔ طبی جریدے جرنل آف ہیپاٹولوجی میں شائع تحقیق کے مطابق جو لوگ دن میں دس یا زائد گھنٹے بیٹھ کر گزارتے ہیں ان میں جگر کے امراض کا خطرہ 9 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں جسمانی طور پر متحرک ہونا جیسے روزانہ کم از کم دس ہزار قدم چلنا جگر کے امراض کا خطرہ 20 فیصد تک کم کردیتا ہے۔ اس تحقیق کے دوان ڈیڑھ لاکھ کے قریب مرد و خواتین کا جائزہ لیا گیا جن کی اوسط عمر 40 سال کے لگ بھگ تھی اور نتائج سے معلوم ہوا کہ 35 فیصد جگر کے امراض کا شکار ہیں۔ گردوں کے مرض کا خطرہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر وقت بیٹھے رہنا گردوں کے سنگین امراض کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ یہ بات 2012 میں لیسٹر یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں سامنے آئی تھی۔ محققین کے مطابق طرز زندگی کے عناصر اور گردوں کے امراض کے درمیان تعلق موجود ہے مگر یہ پہلی بار ہے یہ بات سامنے آئی کہ سست طرز زندگی گردوں کے امراض کا شکار بھی بناسکتی ہے۔ گردوں کے سنگین امراض میں یہ عضو خون کو ٹھیک طرح فلٹر نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں جسم میں کچرا جمع ہونے لگتا ہے اور بتدریج گردے فیل ہوجاتے ہیں جس کے نتیجے میں موت کا خطرہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر بیٹھنے کا دورانیہ 8 گھنٹے سے کم کردیا جائے تو اس خطرے میں کچھ حد تک کمی لائی جاسکتی ہے جبکہ ورزش بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔امریکی نیشنل انسٹی ٹیوٹ کے مطالعے میں50 سے 71 سال کے 221000 افراد پر تحقیق کی گئی جو ریسرچ کے آغاز پر کسی دائمی بیماری کا شکار
نہیں تھے۔ تحقیق کے بعد انسٹی ٹیوٹ نے اس بات کی تصدیق کی کہ زیادہ ٹی وی دیکھنے والے افراد میں کینسر اور دل کے امراض میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ریسرچ میں بتایا گیا کہ ایسے افراد کے ذیابطیس، انفلواینزا، پاکنسنز ڈیزیز اور جگر سے متعلق امراض میں مبتلا ہونے کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔ مطالعے میں پایا گیا کہ جو افراد روزانہ تین، چار گھنٹے ٹی وی دیکھتے ہیں ان میں کسی بھی بیماری میں مبتلا ہونے کے 15 فیصدزیادہ امکانات ہوتے ہیں جبکہ جو افراد سات گھنٹے یا اس سے زائد ٹی وی دیکھتے ہیں ان میں یہ امکانات 47 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں۔اگر تو آپ دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے کے عادی ہیں ؟ تو کمردرد کا ‘استقبال کرنے کے لیے تیار ہوجائیں۔ برٹش جرنل آف اسپورٹس میڈیسین میں شائع ایک تحقیق کے مطابق 9 گھنٹے یا اس سے زائد وقت بیٹھ کر گزارنے والے افراد میں کمردرد کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دفتری ملازمین خاص طور پر سست طرز زندگی کے عادی ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ذیابیطس، ہڈیوں کی کمزوری اور ڈپریشن کے ساتھ ساتھ کمردرد کے بھی مریض بن جاتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ اوسطاً لوگ ساڑھے 5 گھنٹے بیٹھ کر گزارنے کے عادی ہیں۔محققین نے مشورہ دیا ہے کہ دن بھر میں کم از کم 2 گھنٹے کھڑے ہوکر گزارنا کمردرد کی تکلیف سے بچاسکتا ہے۔قبض۔۔۔۔۔۔۔اورینج کوسٹ میموریل میڈیکل سینٹر کے ڈائجسٹیو کیئر سینٹر کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ طویل وقت تک بیٹھے رہنے کے نتیجے میں لوگ قبض کا شکار ہوسکتے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دن کا زیادہ وقت تک بیٹھے رہنے کے نتیجے میں آنتوں کا نظام متاثر ہوتا ہے جس کے نتیجے میں خوراک ہضم نہیں ہوپاتی اور قبض کا سامنا ہوسکتا ہے۔ محققین نے مشورہ دیا ہے کہ ہر تھوڑی دیر بعد اٹھ کر کچھ منٹ تک اپنے ارگرد چہل قدمی کریں جو کہ نظام ہاضمہ کو بہتر بنانے کے لیے موثر عمل ثابت ہوتا ہے۔ خیال رہے کہ دن کا زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنا موٹاپے سمیت ذیابیطس، بلڈپریشر، جگر کے امراض کا بڑنا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.