میانمار طاقتور ملکوں کے ہتھیاروں کی منڈی !!

میانمارجدت ویب ڈیسک پوری دنیا میں ہر جگہ مظلوم و محکوم عوام کے ساتھ ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے اور ہمارے مشاہدے میں ہے کہ انسانی حقوق کی پاسداری کے دعویدار ہی سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث رہے ہیں اور ان کے خلاف عالمی انسانی حقوق کے تحفظ کی دعویدار تنظیمیں بھی خاموش تماشائی نظر آتی ہیں۔وہ کشمیر میں بھارتی افواج کی زیادتیاں ہوں فلسطین اور شام میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم ہوںیا میانمار میں جاری حالیہ پر تشدد اور دل کو لرزادینے والے حالات ہوں،ان مظالم کے خلاف انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اور گرد و پیش کے طاقتور ممالک جو پوری دنیا میں خود کو سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پاسداری کرنے والے ممالک کہتے ہیں کیوں خاموش ہیں! اور ان کی اس خاموشی پیچھے کونسے عوامل کار فرما ہیں اس کا اندازہ عرب چینل الجزیرہ میڈیا نیٹ ورک کی جانب سے جاری ایک نقشہ کی مدد سے بھی لگایا جاسکتا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ میانمار دراصل گرد و پیش کی طاقتور ریاستوں کے ہتھیاروں کی منڈی ہےجن میں چین،روس،انڈیا،جرمنی،شمارلی کوریا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں،یہ ممالک میانمار میں اپنے ہتھیار فروخت کرتے ہیں ۔

 

نقشہ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کونسا ملک کونسے ہتھیار کتنی تعداد میں میانمار کو فروخت کرچکا ہے ۔ جن کی تفصیل کچھ یوں ہے۔ سب سے پہلے فوجی گاڑیاں ٹینک وغیرہ میں چائنا 696کی تعداد کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے،اسرائیل 120کی تعداد کے ساتھ دوسرے،یوکرائن 50کی تعداد کے ساتھ تیسرے جبکہ انڈیا 20کی تعداد کے ساتھ چوتھےنمبر پر ہے۔ اسی طرح ایئر کرافٹ جنگی جہازوں میں بھی چائنا 120کی تعدادکے ساتھ پہلی پوزیشن پر جبکہ روس 64کے ساتھ دوسری پوزیشن پر،پولینڈ 35کی تعدادکے ساتھ تیسری،جرمنی 20کی تعداد کے ساتھ چوتھی،سابقہ یوگوسلاویہ 12کی تعداد کے ساتھ پانچویں،انڈیا 9کی تعداد کے ساتھ چھٹی،سوئیڈزر لینڈ 3کی تعداد کے ساتھی ساتویں اور ڈنمارک ایک کے ساتھ آٹھویں پوزیشن پر ہے۔ اسی طرح سمندری جنگی جہازوں میں بھی چائنا 21کے ساتھ اوّل،انڈیا اور سابقہ یوگوسلاویہ 3،3کی تعداد کے ساتھ دوم نمبر پر ہے۔ میزائلوں میں روس کو چین پر 1,029کے مقابلے میں 2,971کی تعداد سے سبقت حاصل ہے جبکہ بیلاروس120اوربلغاریہ 100یوکرائن کی تعدادہ 10ہے،اسی طرح ایئر کرافٹ گنز میں چائنا 125سربیا 120روس 100اسرائیل 21شمالی کوریا 16جبکہ انڈیا 10میانمار کو فروخت کرچکا ہے۔ نقشہ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بلغاریہ پولینڈ، جرمنی اوربیلاروس کی جانب سے یہ خرید و فروخت یورپی یونین کی جانب سے میانمار پر جنگی ہتھیاروں کی پابندی سے پہلے کی گئی یا صرف غیر جنگی طیارے اور آلات فروخت کئےگئے۔ جن کی نشاندہی ستارہ لگاکر کی گئی ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بیشتر ممالک نے میانمار کو ہتھیاروں کی فروخت یورپی یونین کی طرف سے عائد پابندیوں کے باوجود کی، جن میں یورپی یونین کا ممبرملک سربیا بھی شامل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.