بہت زیادہ گوشت کھانے سے آپ کے جسم کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟

ویب ڈیسک :: کسی بھی چیز یا غذا کی زیادتی ہرگز اچھی بات نہیں آج ہم بات کر رہے ہیں گوشت کے بارے میں ،اگرچہ گوشت ہماری غذا کا اہم ترین حصہ سمجھا جاتا ہے لیکن پھر بھی اس کا زیادہ استعمال ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے- اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ آپ گوشت کھانا ہی بالکل چھوڑ دیں بلکہ آپ مندرجہ ذیل طبی مسائل کو ذہن میں رکھتے ہوئے ایک مناسب حد تک گوشت کو اپنی غذا میں شامل کریں-
پانی کی کمی
جب آپ کے جسم میں یورک ایسڈ کا اضافہ ہوتا ہے تو اس سے آپ کو عام حالات کے مقابلے میں زیادہ پیاس لگتی ہے- آپ کے گردوں کو زہریلے مادے خارج کرنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ زیادہ سے زیادہ پانی پی رہے ہیں-
سر درد
پانی کی کمی کی وجہ سے سر درد کا بھی سامنا رہتا ہے- چونکہ گوشت خون کو گاڑھا کرنے کا سبب بنتا ہے اس وجہ سے دماغ کی طرف آکسیجن کا بہاؤ بھی کم ہوجاتا ہے- اس لیے ضروری ہے کہ متوازن غذا کا استعمال کیا جائے-

دل کے مسائل
آپ کی غذا میں زیادہ فائبر کا شامل رہنا آپ کے دل کو محفوظ رکھتا ہے- لیکن اگر آپ زیادہ تر گوشت کا استعمال کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بہت زیادہ فائبر نہیں کھاتے- اس طرح آپ کو دل کے مسائل لاحق ہونے کا خطرہ 3 گنا بڑھ جاتا ہے-

سانسوں سے بدبو
ایک غذا جو بہت زیادہ پروٹین اور چربی پر مشتمل ہوتی ہے، لیکن اس میں کارب کی کمی ہوتی ہے، تو اس سے جسم میں ketones پیدا ہوسکتی ہے۔ ketones آپ کے جسم سے خارج ہونے والی سانس کے ساتھ بدبو بھی شامل کردیتا ہے جو یقیناً نہ صرف آپ کو خود ناگوار محسوس ہوتی بلکہ آپ کے اردگرد کے افراد کے لیے بھی تکلیف کا سبب بنتی ہے-
گردے میں پتھری
گوشت سے حاصل ہونے والا پروٹین کچھ ایسے اجزاﺀ پر مشتمل ہوتا ہے جو یورک ایسڈ میں اضافہ کرتے ہیں- اور اگر تیزابیت میں زیادہ اضافہ ہوجائے تو یہ گردے میں پتھری پیدا کرنے کی وجہ بھی بن جاتا ہے- گوشت کا استعمال ایک حد میں رہ کر کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ پانی کا استعمال زیادہ کرنا چاہیے-

قبض کا سامنا
گوشت میں پروٹین کی تو بھاری مقدار پائی جاتی ہے لیکن اس میں فائبر کی خاص مقدار نہیں پائی جاتی- آپ عام طور پر پھلوں اور سبزیوں کے علاوہ دالوں سے بھی فائبر حاصل کرسکتے ہیں اس لیے اپنی خوراک میں ان غذاؤں کو بھی لازمی شامل رکھیں- بصورت دیگر آپ کو پیٹ میں درد اور قبض کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے-

Leave a Reply

Your email address will not be published.