مستقبل کیلئے ٹیکس نیٹ میں توسیع ضروری ہے، میاں زاہد حسین

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فورم کے صدر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک کے روشن مستقبل کیلئے ٹیکس نیٹ میں توسیع ضروری ہے۔ اس وقت جی ڈی پی کے مقابلے میں ٹیکس کا تناسب کم ہونے کی وجہ سے ملکی معیشت کیلئے قرضوں کی ضرورت پیش آ رہی ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ عوام کو ہر حکومت سے تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر ، سماجی تحفظ اور غربت میں کمی لانے سمیت متعدد توقعات ہوتی ہیں مگر ٹیکس ادا نہ کرنے کے کلچر کی وجہ سے یہ توقعات پوری نہیں ہوئیں۔ٹیکس ادا نہ کرنے کی ایک وجہ ٹیکس دہندہ اور ٹیکس گزار کے مابین اعتماد کا فقدان بھی ہے جسے دور کئے بغیرمحاصل میں اضافہ نا ممکن ہے۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ کی فوعی ضرورت ہے جبکہ ملکی ترقی کیلئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی بھی ضرورت ہے جس کیلئے ٹیکس نیٹ کو پھیلانا ضروری ہے تاکہ حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو سکے۔انھوں نے کہا کہ بینک ٹرانزیکشن پرودہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے اور رئیل اسٹیٹ پر ٹیکس بڑھانے جیسے اقدامات کے بجائے ٹیکس نیٹ کو ہر ممکن طریقے سے پھیلایا جائے تاکہ حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہو ۔ سیاسی عدم استحکام اور جے آئی ٹی کے معاملات کے باوجود نئے مالی سال کے پہلے پندرہ دن میں ایف بی آر نے 100 ارب روپے سے زیادہ کے ٹیکسز جمع کئے ہیں جو گذشتہ کئی سال کے مقابلے میں ایک ریکارڈ ہے ۔ اگر ایسی کارکردگی سارا سال دکھائی جائے تو ملک قرضوں سے بے نیاز ہو سکتا ہے مگر ساتھ ہی اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ کاروباری برادری ہراساں نہ ہو، تاکہ کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.