/

ملک بھر میں یوم عاشور عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے

کراچی جدت ویب ڈیسک نواسہ رسول ؐحضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اوران کے ساتھیوں کی اسلام کی سربلندی اور حق وصداقت کے لئے میدان کربلا میں دی گئی عظیم قربانی کی یاد میں یوم عاشورکل دسویں محرم الحرام اتوار کے روز مذہبی عقیدت و احترام سے منایا جائے گا ،ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں میں ذوالجناح اور تعزیے کے جلوس برآمد ہونگے،آج نویں محر م کے جلوس برآمد ہوں گے جس میں عزادار شہدائے کربلا کوخراج عقیدت پیش کریں گے جبکہ مرکزی امام بارگاہوں سے نویں اوردسویں محرم کی درمیانی شب مرکزی جلوس برآمد ہونگے جو اپنے روایتی راستوں سے ہوتے ہوئے کل دس محرم الحرام کواپنی منزل مقصود پر پہنچ کر اختتام پذیر ہوں گے جس کے بعدشام غریباں منائی جائے گی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے نو اور دس محرم الحرام کے روز فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے انتظامات کو حتمی شکل دیدی گئی ہے۔ امن و امان کے تناظر میں ملک کے مختلف شہروں میں موبائل فون سروس معطل رکھنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ذرائع کے مطابق موبائل فون سروس جلوسوں کے روٹس پر بند رہے گی جو کہ جلوسوں کے اختتام تک معطل رہے گی۔ملک بھر میں امن وامان کو یقینی بنانے کی غرض سے پولیس کے ساتھ پاک فوج ، رینجرز اور ایف سی کے دستے بھی حفاظتی ڈیوٹیوں پر تعینات ہوں گے ۔وزارت داخلہ میں قائم خصوصی مانیٹرنگ سیل پورے ملک میں سکیورٹی صورتحال کو مانیٹر کرے گا۔ لاہور ، کراچی ، پشاور سمیت ملک کے بڑے شہروں میں 9اور دس محرم کو ڈبل سواری پر بھی مکمل پابندی عائد ہو گی ۔پنجاب حکومت نے یوم عاشورہ کے موقع پر جلوسوں کی فول پروگ سکیورٹی کے حوالے سے تمام انتظامات مکمل کر لیے ہیں ۔ جلوسوں کے روٹس اور حساس مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر دیئے گئے ۔صوبائی، ڈویژن، ضلع اور تحصیل کی سطح پر کنٹرول رومز قائم کر دیئے گئے جبکہ جلوسوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کیلئے 4 درجاتی حصار بنائے جائیں گے۔اس کے ساتھ سی سی ٹی وی کیمروں، جنریٹرز، لائٹس، واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز اور دیگرآلات کا استعمال کیا گیا ہے ۔صوبائی محکمہ داخلہ کی جانب سے عشرہ محرم الحرام کے دوران امن وامان کی صورتحال برقرار رکھنے کےلئے دفعہ 144کے تحت ماسوائے عزاداری مجالس اور ماتمی جلوسوں کے پانچ یا پانچ سے زائد افراد کے اجتماع جبکہ ضلعی انتظامیہ کی اجازت یا لائسنس کے بغیر ماتمی جلوس نکالنے ، عزاداری مجالس کے انعقاداورجلوسوں کے راستے پر واقع عمارتوں کے اوپر کسی قسم کی مورچہ بندی پر پابندی عائد ہے ۔نویں اور دسویں محرم کے موقع پر صوبہ بھر میں ڈبل سواری پر بھی مکمل پابندی عائد ہو گی ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ پنجاب نے دفعہ 144(6)کے تحت حاصل اختےارات برئوے کار لاتے ہوئے صوبہ بھر میں محرم کے جلوسوں، ذوالجناح یاتعزیہ کے تمام روٹس پر واقع گھروں و دکانوں کی چھتوں پر کھڑے ہونے،دروازے کھڑکیاں کھلی رکھنے، غیرمتعلقہ افراد کے محرم جلوسوں کے قریب کھڑے ہونے، آتشبازی، گولے ،کریکرزچلانے، غیرضروری طور پر کاٹھ کباڑ،بوتلیں، اینٹیں، روڑے، ٹائرز، شیشہ جمع کرنے کو بھی ممنوع قرار دیا ہے۔ حکمنامے کے مطابق ماتمی جلوسوں کے اندر تلاشی کے بغیر کسی قسم کا سامان لے جانے اورمجالس یا جلوسوں کے طے شدہ اوقات کی خلاف ورزی پر بھی پابندی ہو گی ۔ہیلی کاپٹرز کے ذریعے محرم الحرام کے جلوسوں کی فضائی نگرانی بھی کی جائے گی ۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے ہدایات جاری کی ہیں کہ صوبائی کابینہ کمیٹی برائے امن و امان امن عامہ کی صورتحال یقینی بنانے کیلئے کئے جانےوالے اقدامات کا باقاعدگی سے جائزہ لے۔ منتخب نمائندے بھی پولیس اور انتظامیہ کے ساتھ مل کر سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیں۔ انہو ںنے تاکید کی کہ جلوسوں اور مجالس کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں کو کھانے پینے کے اشیائ کی بروقت فراہمی کے انتظامات بھی کئے جائیں۔کمشنر ز اورآر پی او زاپنے اپنے متعلقہ اضلاع مےں سکےورٹی کے انتظامات کا موقع پر جاکر خود جائزہ لےں اوراس ضمن مےں رپورٹ پےش کی جائے۔ جلوس کے راستوں میں آنے والے تجارتی مراکز اور رہائشگاہوں کی جامع تلاشی کے بعد ان کی چھتوں پر سنائپرز تعینات کئے جائیں گے ۔عاشورہ کے موقع پر کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کےلئے امام بارگاہوں، مساجد، عبادت گاہوں اور مزارات کی سکیورٹی بھی سخت کر دی گئی ہے اور انٹےلی جنس کی بنےاد پر سرچ آپرےشن جاری ہیں ۔ رات کے وقت عزاداری کے جلوسوں اور مجالس کیلئے روشنی کے متبادل انتظامات کے طو رپر جنریٹرز کے انتظامات کیے گئے ہیں ۔نو اور دس محرم الحرام کو مرکزی جلوسوں میں شامل ہونے والے مختلف مقامات پر جامع تلاشی کے بعد شامل ہو سکیں گے اس کے لئے واک تھرو گیٹس بھی نصب کیے جائیں گے جبکہ جلوسوں کے منتظمین اور رضا کار بھی حفاظتی ڈیوٹیوں پر تعینات ہوں گے۔ جلوس کے راستوں میں بغیر اجاز ت پانی اور دودھ کی سبیلیں لگانے اور نیاز تقسیم کرنے کی اجازت نہیں ہو گی اور اس سلسلہ میں منتظمین کو ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ اس پر پابندی کے ذمہ داری ہوں گے کہ کوئی بھی اجنبی شخص اپنے طور پر کھانے پینے کی اشیائ تقسیم نہ کرے ۔علاوہ ازیں کسی بھی نا خوشگوار واقعہ کے پیش نظر تمام سرکاری ہسپتالوں میں ایمر جنسی نافذ ہو گی اور تمام ایم ایس صاحبان کو ڈاکٹروں اورپیرا میڈیکل سٹاف کو الرٹ رکھنے اور ادویات کا متعلقہ سٹاک پورا رکھنے کی ہدایات بھی جاری کی گئی ہیں ۔علاوہ ازیں آج âہفتہ á کے روز نویں محر م کے جلوس برآمد ہوں گے جس میں عزادار شہدائے کربلا کوخراج عقیدت پیش کریں گے ۔ ملک بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہات میں 9 محرم الحرام کی مناسبت سے مجالس منعقد کی جائیں گی جن میں ذاکرین اورعلمائے دین میدان کربلا میں پیش آنے والے واقعات خاص طور پر حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے قافلے میں شامل ننھے علی اصغر سمیت دیگر بچوں کی پیاس اور ان کی استقامت کو بیان کریں گے ۔ لاہور میں مرکزی جلوس پانڈو سٹریٹ اسلام پورہ سے برآمد ہو گا ۔اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے جائیں گے اور راستے میں آنے والے تمام بازار اور مارکیٹیں بند رہیں گے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.