//

نیپرا نے بجلی مہنگی کرنے سے متعلق کے الیکٹرک کی درخواست پر سوال اٹھادیئے

NEPRA questioned Electric's request to increase the price of electricity

کراچی(جدت ویب ڈیسک)نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی نے بجلی مہنگی کرنے سے متعلق کے الیکٹرک کی درخواست پر سوال اٹھادیئے۔
چیئرمین نیپرا توصیف فاروقی نے جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 55 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کے لیے کے الیکٹرک کی درخواست پر سماعت کی۔نیپرا نے کے الیکٹرک کی درخواست پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ جولائی میں کے الیکٹرک نے بعض پلانٹس پر میرٹ آرڈر کو نظرانداز کیا، اچھی کارکردگی کے حامل پاور پلانٹس کو مکمل استعداد پر نہیں چلایا گیا، کورنگی کمبائنڈ سائیکل پلانٹ کو گیس کی بجائے ہائی اسپیڈ ڈیزل پر چلایا گیا، اگر ان ایشوز کو دیکھا جائے تو کے الیکٹرک کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ صرف 4 پیسے بنتی ہے۔کے الیکٹرک حکام نے جواب میں کہا کہ پاور پلانٹس کو اکنامک میرٹ آرڈر کے مطابق چلایا گیا
جب ایک پلانٹ دستیاب نہیں ہوگا تو دوسرا چلایا جائے گا ، گیس پریشر میں کمی کے باعث پاور پلانٹس ڈیزل پر چلائے گئے۔ فرنس آئل اور ایل این جی کی قیمتیں بڑھنے سے 2 ارب 40 کروڑ روپے کا بوجھ پڑا، صارفین کو لوڈشیڈنگ سے بچانے کے لیے مہنگافیول استعمال کرنا پڑتاہے،جولائی میں جون کی نسبت فرنس آئل کم اور ایل این جی زیادہ استعمال ہوئی، جس پر نیپرا نے کہا کہ پلانٹ اور ایندھن کی دستیابی کس کی ذمہ داری ہے؟ کے الیکٹرک کے مسائل کا خمیازہ صارف کیوں بھگتے؟۔چیئرمین نیپرا نے درخواست پر سماعت مکمل کرتے ہوئے کہا کہ اتھارٹی کے الیکٹرک کے اعدادوشمار کا جائزہ لے کر فیصلہ جاری کرے گی۔چیئرمین نیپرا کے سخت رویے پر شرکا برہم ہوگئے۔بی ایم جی کے چیئرمین اور معروف بزنس مین زبیرموتی والا نے دوران سماعت کہاکہ آپ عوامی سماعت پر صارف کو سننا ہی گوارہ نہیں کرتے، میری بات ابھی جاری ہے لیکن آپ بولنے نہیں دے رہے۔ جس پر چیئرمین نیپرا نے کہا کہ آپ کو 15 منٹ سے سن رہے ہیں اس سے زیادہ کتنا ٹائم دیں اور بھی شرکا موجود ہیں ان کو بھی موقع دینا ہے، عوامی سماعت کا یہ مطلب نہیں کہ آپ اتھارٹی پر تنقید کرنا شروع کر دیں، جس پر زبیر موتی والا نے کہا کہ آپ کے سخت بیانات پہلے بھی میڈیا پر چلتے رہے ہیں، میں آپ کے رویے کے خلاف پریس میں جائوں گا۔ زیادہ تلخ کلامی پر چیئرمین نیپرا نے زبیر موتی والا کا مائک بند کر دیا جس پر تاجر رہنما سماعت سے احتجاجاً اٹھ کر چلے گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.