ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ عام ہونی چاہیے ‘چوہدری نثار

Nisar Ali Khan

 

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاہے کہ پارٹی اور پارٹی لیڈر شپ مشکل میں ہے، وزارت سے علیحدگی کی وجوہات بتانے کےلئے مناسب وقت نہیں ہے۔ بعض معاملات پر اختلاف رائے ہے سچ کہنا اپنی روایت بنا لیں تو بہت سی خامیاں دور ہو جائیں گی ڈان خبر معاملے کی تفتیشی رپورٹ عام ہونی چاہیے عدالتی حکم موصول ہونے پر پرویز مشرف کو باہر جانے کی اجازت دی گئی مشرف کی واپسی سے متعلق ٹرائل کورٹ لکھے گا تو ریڈوارنٹ جاری ہوں گے تنقید میٹنگ اور اجلاس میں ہونی چاہیے عسکریت پسندوں سے مذاکرات پرتمام ادارے ایک پیج پرتھے پاکستان میں دہشتگردوں کاکوئی نیٹ ورک نہیں صبراورثابت قدمی سے دہشت گردوں کامقابلہ کرناہوگا۔ اتوار کو میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ میں نے کوئی خبر لیک نہیں کی میں صحافیوں سے کہوں گاکہ مجھ سے متعلق کوئی بیان چلاناہوتواس کی تصدیق ضرورکرلیاکریں۔سابق وزیر داخلہ نے میڈیا کو ان کے حوالے سے کوئی بات کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی اور پارٹی لیڈر شپ مشکل میں ہے اس لیے یہ وقت وزارت سے علیحدگی کی وجوہات بتانے کےلئے مناسب نہیں ہے۔سابق وزیر داخلہ نے کہاکہ 24 روز بعد میڈیا کے سامنے آیا ہوں اور وزارت داخلہ کا سوا چار سال کی کارکردگی آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ میں کبھی اپنے منہ میاں مٹھو نہیں بنا، اپنی وزارت کی کبھی تعریف نہیں کی میں نے اپنی جو کارکردگی دکھائی ہے اس کو سیاست کی نذر نہیں ہونا چاہیے اور اس کے حوالے سے میں نے میڈیا پر بات نہیں کی اس لیے میرا فرض ہے کہ اس دوران اس وزارت میں جو ہوا ریکارڈ کےلئے آپ کے سامنے رکھا جائے۔انہوںنے کہاکہ بہت سے ذی شعور لوگوں کی جانب سے وزارت داخلہ کی آئینی اور قانونی حیثیت جانے بغیر اس پر تنقید کی گئی۔کوئٹہ انکوائری کے حوالے سے رپورٹ آئی تو میں نے ایک نوٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی تھی اور اسی طرح 40 صفحات کی ایک مختصر نوٹ تیار کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ شروع میں ایک مسلح شخص آیا تو اس کی ذمہ داری بھی مجھ پر ڈالی گئی جبکہ لااینڈ آرڈر کی ذمہ داری صوبوں کی ہے لیکن جو اچھے کام ہوئے اس کی ذمہ داری لینے کےلئے بہت سے لوگ سامنے آئے اور جہاں خامی نظر آئی اس کی ذمہ داری مجھ پر ڈالی گئی لیکن میں خاموش رہا۔سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ 4برس میں سارے کام ہوگئے بلکہ اندرونی سیکیورٹی کے معاملے پربہت کام ہوناباقی ہے۔انھوں نے کہا کہ تنقید میٹنگ اور اجلاس میں ہونی چاہیے اور عوام کے سامنے نہیں ہونی چاہیے اسی لیے بلاجواز ہونے والی تنقیدکاکبھی جواب نہیں دیا۔انہوںنے کہاکہ پارٹی اجلاس کی باتیں بھی لیک نہیں ہونی چاہیے۔سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ آج بھی میں اپنی کامیابیوں کا کریڈیٹ اکیلے نہیں لینا چاہتا کیونکہ اس میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت شامل تھی۔چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ جب بھی کوئی واقعہ ہوا وزارت داخلہ پر ذمہ داری ڈالی گئی ¾درگاہ لعل شہبازقلندردھماکے کے بعدایک پارٹی کی تنقید کا جواب دیا۔انھوں نے کہا کہ جون 2013 میں 5 6 دھماکے روزہوتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ آج کم دھماکے ہوئے، اتنے برے حالات تھے۔دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ عسکریت پسندوں سے مذاکرات پرتمام ادارے ایک پیج پرتھے تاہم پیپلزپارٹی، اے این پی اورایم کیوایم عسکریت پسندوں سے مذاکرات کے حامی نہیں تھے۔انہوںنے کہاکہ کراچی ائیرپورٹ پرحملے کے بعددہشت گردوں کے خلاف آپریشن کافیصلہ کیاگیا لیکن پاکستان تحریک انصاف جماعت اسلامی اورجے یوآئی آپریشن کی مخالف تھی تاہم قومی مفادمیں تینوں پارٹیوں نے آپریشن کی مخالفت نہیں کی۔انھوں نے کہا کہ آج پاکستان میں دہشت گردوں کاکوئی نیٹ ورک نہیں پاکستان ان چندممالک میں ہے جہاں دہشت گردی میں کمی آئی اور ابھی دہشت گردوں کیخلاف جنگ آخری مراحل میں ہے اس لیے صبراورثابت قدمی سے دہشت گردوں کامقابلہ کرناہوگا۔سابق وزیرداخلہ نے کراچی آپریشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 5ستمبرکوکراچی میں وفاقی کابینہ کااجلاس ہوا، چوہدری نثار 27اگست کوکراچی آپریشن کااعلان کیا اور آج کراچی کسی ایک شخص کے پاگل پن پر یرغمال نہیں ہوتا۔انھوں نے وزارت داخلہ کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہا کہ چار برسوں میں 10 کروڑ سمز منسوخ کی گئیں2 لاکھ ممنوعہ بور کے لائسنس منسوخ کئے گئے، 10ہزار سے زائد لوگوں کے نام ای سی ایل سے نکالے، 2000 سے زائد سفارتی پاسپورٹ منسوخ کئے، 32 ہزارجعلی پاسپورٹ اور ہزاروں جعلی شناختی کارڈ منسوخ کئے گئے۔سابق وزیرداخلہ نے کہا کہ میں نے کبھی سیاست چھوڑنے کا نہیں کہا شاید میرے سمجھانے میں مسئلہ ہوا جبکہ یہاں خود سے کونسلر شپ نہیں چھوڑی جاتی میں نے وزارت داخلہ سے خود کو الگ کیا میں نے اختلاف رائے کی وجہ سے خود کو الگے کیا جبکہ نواز شریف اور شاہد خاقان عباسی نے آخری وقت تک کوشش کی کہ میں وزارت داخلہ کا منصب دوبارہ سنبھال لوں۔ڈان کی خبر کے معاملے پر پوچھے گئے ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ میرے خیال میں اس رپورٹ کو عام ہونا چاہیے۔انہوںنے کہاکہ اس رپورٹ کو عام کرنا حکومت کا کام ہے کیونکہ یہ وزارت داخلہ کے تحت نہیں ہے۔چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ گزشتہ پریس کانفرنس میں سیاست سے علیحدگی کی بات نہیں کی تھی شاید میں اپنے نقطہ نظر کو سمجھانے میں قاصر رہا تھا۔سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ سینٹرل ایگزیکٹیو کے میٹنگ میں 45لوگ تھے اور اس میں پارٹی پالیسی سے میں نے اختلاف کیا مگر اس اختلاف کی خبر جس نے لیک کی وہ بددیانت لوگ ہیں۔ہم سچ کہنا اور سچ بولنا روایت بنا لیں تو بہت سی غلطیاں درست ہوجائیں گے  ایک شخص سے جب اختلاف رائے ہوجائے تو اسے الگ ہو جانا چاہئے۔کوئی کونسلر کا عہدہ نہیں چھوڑتا ،میں نے وزارت داخلہ کا عہد ہ نہیں لیا کیوں کہ اس کے پیچھے کچھ وجوہات تھیں ۔ایک سوال پر چوہدری نثار علی خان نے کہاکہ پرویز مشرف کیس ملک کی عدالتوں میں چلتا رہا ہائی کورٹ سپریم کورٹ اور خصوصی عدالت میں انہوں نے اپنا موقف دیا جس کے بعد سابق صدر کو جانے کی اجازت ملی مشرف وزارت داخلہ سے پوچھ کر نہیں گئے۔ سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ پرویز مشرف کے معاملے پر کورٹ کے فیصلے کو پڑھیں سابق صدر کو عدالت کی جانب سے حکم موصول ہونے پر بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی۔انہوں نے کہاکہ میں نے مشرف کے بیرون ملک جانے پر یہ بات نہیں کی تھی کہ وہ تین ہفتوں میں واپس آجائیں گے،ضمانتیں عدالتیں لیتی ہیں وزارت داخلہ کسی کی ضمانت نہیں لیتی۔ایک سوال کے جواب میں سابق وزیرداخلہ نے کہاکہ مشرف کی واپسی سے متعلق ٹرائل کورٹ لکھے گا تو ریڈوارنٹ جاری ہوں گے ۔ایک سوال پر انہوںنے کہاکہ بعض معاملات پر اختلاف رائے ہے سچ کہنا اپنی روایت بنا لیں تو بہت سی خامیاں دور ہو جائیں گی ۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.