پاکستانی سرزمین تشدد کیلئے استعمال نہیں ہونے دینگے،افغانستان میں ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا نادرست نہیں،اعزاز چوہدری

جدت ویب ڈیسک : پاکستانی سفیر اعزاز چوہدری نے کہا پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف موثرکارروائی کی جب کہ بڑے آپریشن میں حصہ لے کرریاست مخالف عناصرکا صفایا کیا۔انہوں نے کہا کہ ڈیفنس ڈے پاکستان کی تاریخ میں بڑی اہمیت رکھتا ہے، پاکستانی افواج نے دہشت گردی کی جنگ میں بھی بہت قربانیاں دی ہیں، پاک فوج نے پڑوسی ملک کی جارحیت کا بھی سامنا کیا، 1965 میں ہمسایہ ملک بھارت کی جارحیت کو ہماری فورسزنے منہ توڑجواب دیا تھا، پاکستان یواین پیس مشن میں سب سے زیادہ فوج بھیجنے والا ملک ہے جب کہ پاکستانی فوج کی دہشت گردی کی جنگ میں قربانیوں نے خطے میں امن بحال کیا۔اعزاز چوہدری نے پاک امریکا تعلقات پرکہا کہ پاکستان کے امریکا کے ساتھ پچھلی سات دہائیوں سے بہترین تعلقات ہیں، پاکستان مستقبل میں بھی امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے اوردہشت گردی کی جنگ میں امریکا کا بھرپورساتھ دے گا۔اعزازچوہدری نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا سمیت عالمی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں، پاک فوج نے دہشت گردوں کے خلاف موثرکارروائی کی جب کہ پاک فوج نے بڑے آپریشن میں حصہ لے کرریاست مخالف عناصرکا صفایا کیا۔اس موقع پر فوجی اتاشی میجر جنرل سرفراز چودھری نے کہاکہ افغانستان کا استحکام پاکستان کیلئے بہت اہم ہے، ہم مسلسل ایک جنگ کی حالت میں ہیں، ہر گزرے دن کے ساتھ قوم طاقتور بن کر ابھر رہی ہے۔ اس موقع پر قومی پرچم بھی لہرایا گیا اور مختلف پروگرام پیش کئے گئے امر یکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان میں ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دینا درست نہیں،پاکستانی سرزمین تشدد کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے،پاک فوج نے بڑے آپریشن میں حصہ لے کرریاست مخالف عناصرکا صفایا کیا،پاکستان مستقبل میں بھی امریکا کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کے دارالحکومت واشنگٹن میں پاکستان کے سفارتخانے میں دفاع پاکستان کی تقریب منعقد کی گئی، جس میں امریکا میں بسنے والے پاکستانیوں اور سفارتخانے کے عملے کے ارکان اور انکے اہلخانہ نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری نے کہا پاکستانی سرزمین تشدد کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا افغانستان میں ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر نہیں ڈالا جا سکتا، افغان مسئلے کا حل عسکری نہیں سیاسی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.