شیعہ نسل کشی کیخلاف ایم ڈبلیو ایم کے احتجاجی مظاہرے

کراچی جدت ویب ڈیسک سانحہ مستونگ، کوئٹہ و پاراچنار سمیت ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی، شیعہ علمائے کرام و جوانوں کے اغوا اور سندھ بھر میں مختلف سانحات میں گرفتار کالعدم تنظیموں کے دہشتگردوں کی رہائی کے خلاف مجلس وحدت مسلمین پاکستان کراچی دویژن کے زیر اہتمام جامع مسجد نور ایمان کے باہر مرکزی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا، احتجاجی مظاہرے سے علامہ مرزا یوسف حسین، علامہ اظہر حسین نقوی، علامہ مبشر حسن و دیگر نے خطاب کئے۔ شرکائے احتجاج نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے، جن پر ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی کالعدم دہشتگرد تنظیموں کے خلاف فوجی آپریشن اور سہولت کاروں کے خلاف بھرپور کارروائی کے مطالبات درج تھے۔ ایم ڈبلیو ایم کے تحت جامع مسجد و امام بارگاہ بو تراب عزیز آباد، جامع مسجد جعفریہ نارتھ کراچی سیکٹر 5D، جامع مسجد حسن مجتبیٰ گلشن معمار، جامع مسجد العباس وزیر بروہی گوٹھ کے باہر بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔جن میں میر تقی ظفر، ناصر حسینی، ثمر زیدی سمیت دیگر رہنما ؤں، کارکنان اور مومنین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام نے کہا کہ گذشتہ 18 سالوں میں جس طرح ایک منظم سازش کے تحت کوئٹہ اور اسکے گرد و نواح میں شیعہ ہزارہ قوم کی ٹارگٹ کلنگ اور پھر منظم طور پر ہماری نسل کشی کا منصوبہ بنایا گیا، ملک بھر میں خصوصاً کوئٹہ، پارا چنار اور کراچی میں معصوم عوام کے قتل عام سے حکومت بالکل بیگانہ نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں پاکستان کی اقتصادی ترقی کے دشمن کالعدم شدت پسند ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے درپے ہیں، بلوچستان حکومت امن قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہیں، دہشتگردوں کے نرسری کالعدم شدت پسند گروہ کو بلوچستان میں مکمل آزادی دینا دہشتگردی کیخلاف جنگ کو ناکام بنانے کی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان دہشتگردوں گروہوں نے نام بدل کر پورے پاکستان کو یرغمال بنایا ہوا ہے، اب یہ سارے دہشتگرد گروہ داعش کے جھنڈے تلے منظم ہوکر پاکستان کو اپنی آماجگاہ بنانے کیلئے کوشاں ہیں، ہر سانحے کے بعد باقاعدہ طور پر داعش واقعے کی ذمہ داری نہ صرف قبول کرتی ہے، بلکہ آئندہ بھی اسی طرح کے حملوں کی دھمکیاں دیتی ہے۔ وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی اگر عوام کی جان و مال کی حفاظت نہیں کر سکتے یا پھر وزیر داخلہ کے پاس اختیارات نہیں ہے تو اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجائیں۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف ملک بھر کی طرح بلوچستان میں بھی کالعدم تنظیموں کے خلاف فوجی آپریشن کا آغاز کریں۔ علمائے کرام نے کہا کہ ہمارے علمائ و جوان مسلسل پنجاب سے اغوائ ہو رہے ہیں، ایک طرف تو ملک بھر میں محب وطن شیعہ مسلمانوں کو بدترین دہشتگردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تو دوسری جانب محب وطن شیعہ علمائے کرام اور جوانوں کے اغوا کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے، گزشتہ چند دنوں میں پنجاب سے ہمارے کئی بے گناہ علمائ کرام اغوا ہو چکے ہیں، مسلم لیگ âنá کی متعصب پنجاب حکومت سی ٹی ڈی کے ذریعے محب وطن ملت تشیع کیخلاف بدترین انتقامی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے، اس سے پہلے کے ملت تشیع کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو حکمران ہوش کے ناخن لیں، ورنہ ملت تشیع پنجاب حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہوگی جو حکومت کے خاتمے تک جاری رہے گی، لہٰذا اعلیٰ عدلیہ اور ریاستی ادارے شیعہ دشمن پنجاب حکومت کی متعصبانہ انتقامی کارروائیوں کا نوٹس لیں اور دہشتگردوں کیخلاف بننے والی فورس سی ٹی ڈی کو اپنے شیطانی عزائم کیلئے استعمال کرنے کے پنجاب حکومت کے عمل کو روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں مختلف سانحات میں گرفتار کالعدم تنظیموں کے دہشتگردوں کو رہا کیا جا رہا ہے، سانحہ جیکب آباد و سیہون شریف میں ملوث دہشتگردوں کی رہائی باعث تشویش و اضطراب ہے، ایک طرف تو سندھ میں دہشتگردوں کو رہا کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب سندھ بھر میں دہشتگردوں کے ہمدرد اور سہولت کار پیدا کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں دہشت گردوں کے ٹھکانے پورے ملک کے امن کے لیے خطرہ ہیں، سندھ بھر سے دہشتگردی کے جن مراکز کی نشاندہی کی تھی ان کیخلاف بھرپور ایکشن لیا جائے، چیف جسٹس، آرمی چیف اور بلاول بھٹو سانحہ سہون و جیکب آباد کے دہشتگردوں کی رہائی کا فوری نوٹس لیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.