این اے 120ضمنی الیکشن‘ بیمارنے ڈاکٹر کو شکست دیدی

NA120

لاہور جدت ویب ویب ڈیسک قومی اسمبلی کے حلقے این اے 120کے ضمنی الیکشن میں نااہل وزیراعظم نوازشریف کی اہلیہ کلثوم نوازنے بازی مارلی، ڈاکٹر یاسمین راشد کڑے مقابلے کے بعد ہارگئیں، غیرحتمی غیرسرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کی کلثوم نوازپہلے جبکہ تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد دوسرے نمبر پر رہیں۔پانامہ کیس میں نوازشریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونیوالی نشست پر ضمنی الیکشن میں ن لیگ کی کلثوم نواز نے 55ہزار3سو69جبکہ تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد نے 42ہزار 3سو11ووٹ حاصل کئے۔  غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے سیاسی معرکے این اے 120کے ضمنی انتخاب میں حکمران جماعت کی امیدوار بیگم کلثوم نواز نے میدان مار لیا جبکہ تحریک انصاف کی امیدوار ڈاکٹر یاسمین راشد دوسرے نمبر پر رہیں ، بیگم کلثوم نواز کی کامیابی کی خوشی میں مسلم لیگ ن کے کارکنوں کی طرف سے بھرپور جشن منایا گیا اور منوں کے حساب سے مٹھائیاں تقسیم کی گئیں ، کارکنوں نے گھنٹوں مسلسل آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا اور ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے ہوئے قیادت کے حق میں اورپی ٹی آئی کے خلاف نعرے لگائے جاتے رہے ، مکمل نتائج آنے کے بعد پی ٹی آئی کے کارکن گھروں کو واپس لوٹ گئے جس سے ان کے انتخابی دفاتر خالی ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق حلقہ این اے 120کے ضمنی انتخاب کےلئے صبح 8بجے سے شام 5بجے تک بغیرکسی وقفے کے پولنگ کا عمل جاری رہا ۔ پاک فوج ، رینجرز اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہونے کے باعث امن و امان کی صورتحال مجموعی طور پر امن رہی تاہم اکا دُکا مقامات پر پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنوں کے درمیان معمولی ہاتھاپائی کے واقعات ہوئے ۔ کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آنے کے باعثتمام پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ کا عمل دن بھر پر امن طو رپر جاری رہا ۔ پولنگ کے لئے مقررہ وقت پانچ بجے کے بعد پولنگ اسٹیشنز کے دروازے بند کر دئیے گئے جس کے باعث متعدد ووٹرز اپنا ووٹ کاسٹ نہ کر سکے اور مایوس ہو کر گھروں کو واپس لوٹ گئے ۔ پولنگ اسٹیشن کے اندر موجود ووٹرز کو ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد باہر نکالا جاتا رہا ۔ گنتی کا مرحلہ شروع ہوتے ہی ن لیگ اور پی ٹی آئی کے کارکن پولنگ اسٹیشنز کے باہر اور اپنے دفاتر میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور جیسے ہی پولنگ اسٹیشن سے نتیجہ آتا تو کارکنوں کی طرف سے اپنی اپنی قیادت کے حق میں نعرے بازی شروع کر دی جاتی ۔ کئی مقاما ت پر نتائج کے اعلان کے ساتھ ساتھ آتش بازی کی جاتی رہی ۔ اس موقع پر کارکن ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑے ڈالتے رہے اور اپنی اپنی قیادت کے حق میں نعر ے بھی لگائے جاتے رہے ۔ تمام پولنگ اسٹیشنز سے نتائج کا اعلان ہوتے ہی ن لیگ کے کارکنوں نے اپنی قیادت کے حق میں بھرپور نعرے لگانے کے ساتھ آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا اور یہ سلسلہ بغیر کسی وقفے کے کئی گھنٹے تک جاری رہا ۔ اس موقع پر کارکن ایک دوسرے کو گلے لگ کر مبارکباد دیتے رہے ۔ بیگم کلثوم نواز کی کامیابی کی خوشی میں رہنمائوں اور کارکنوں کی طرف سے منوں کے حساب سے مٹھائیاں تقسیم کی گئیں ۔ کئی مقامات پر لیگی کارکن جشن مناتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے جس سے ٹریفک کے نظام میں بھی خلل آیا ۔مسلم لیگ ن کی طرف سے رات گئے تک جشن منانے کا سلسلہ جاری رہا۔لاہور کے علاوہ گوجر انوالہ ، مریدکے، شیخوپورہ ، ننکانہ صاحب ، فیصل آباد او ردیگر شہروں میں بھی لیگی کارکنوں کی طر ف سے بیگم کلثوام نواز کی کامیابی کی خوشی میں جشن منایا گیا اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔دوسری طرف مکمل نتائج آنے کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے جشن کی تیاریاں دھری کی دھری رہ گئیں اور کارکن مایوس ہو کر گھروںکو واپس لوٹ گئے ۔ اس موقع پرمیڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ پوری حکومتی مشینری کلثوم نوازکے ساتھ تھی، تمام وزرا دن رات حلقے میں موجود تھے انہوں نے کہا کہ ہم نے ن لیگ کا بھرپور مقابلہ کیا لیکن 29ہزار بوگس ووٹوں کا معاملہ عدالت میں لے کر جائیںگے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.