کارکردگی بہتر بنانے کےلئے پولیس کو جدید اسلحہ اور سازوسامان سے لیس کیا جائےگا،وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال

Pakistan Muslim League

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ پولیس کو جدید خطوط پر منظم کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،ملک بھر میں ہزاروں افسروں کے لئے آن لائین کورسز شروع کئے جائیںامن کے استحکام اور بحالی کے حوالے سے پولیس سب سے زیادہ موثر ترین ادارہ ہے ، وہ ادارے تباہی کے دہانے تک پہنچ گئے جن اداروں نے اپنے آپ کو جدید تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ نہیں کیا، وزیر داخلہ نے پولیس کو غیر روایتی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کرنے کی ہدایت بھی کی ہے اور کارکردگی بہتر بنانے کے لئے پولیس کو جدید اسلحہ اور سازوسامان سے لیس کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پولیس اکیڈمی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے منگل کو منعقد ہ اجلاس میں کیا ۔اجلاس میں کمانڈنٹ نیشنل پولیس اکیڈمی شیخ نسیم الزماں، صوبوں کے آئی جیز اور دیگر اعلی افسران نے شرکت کی ۔یہ اجلاس پانچ سال کے بعد منعقد ہوا ہے ۔وزیر داخلہ کا اس موقع پر مزید کہنا تھاکہ جرائم کے انسداد کے لئے پولیس کی تنظیم نو وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے افسران کی پیشہ وارانہ صلاحیت کو کمیونٹی پولیسنگ سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا اور کہا کہ جرائم پیشہ عناصر جدید ٹیکنالوجی کو اپنے مزموم مقاصد میں استعمال کر رہے ہیں۔ وزیر داخلہ نے صوبوں کے آئی جیز کو ہدایت کہ صوبوں کی پولیس کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے باہمی رابطہ قائم رکھنے کی ضرورت ہے۔سیف سٹی کا کامیاب پروجیکٹ تمام صوبوں کے لئے قابل تقلید نمونہ ہے ۔ یاد رہے نیشنل پولیس اکیڈمی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس پانچ سال کے بعد منعقد ہواہے۔ رولز کے مطابق نیشنل پولیس اکیڈمی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس سال میں دو دفعہ منعقد ہونا ضرری ہے ۔وزیرداخلہ نے آئندہ اجلاس جنوری میں بلانے کی ہدایت کی ہے ۔دریں اثنائ وزیرداخلہ نے نیشنل پولیس اکیڈمی کے مختلف حصوں کا دورہ کیا۔دورے کے دوران وزیرداخلہ نے کلاس رومز کا جائزہ لیا اور تربیت حاصل کرنے والے افسران سے خطاب بھی کیا۔وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ افسران اپنے فرائض کو ایمانداری اور لگن کے ساتھ نبھانے کا عہد کریں ،نیشنل پولیس اکیڈمی عصری مسائل سے واقفیت کے لئے سمینار ز منعقد کروائے۔ افسران اپنے کردار اور قابلیت کے معیار کو بہتر بناتے ہوئے عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کو بحال کریں ۔معلومات کے انقلاب کے بعد دنیا میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی اہمیت اور افادیت بڑھ چکی ہے۔افسران اپنی صلاحیتوں کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ بنائیں۔عملی زندگی میں آنے کے بعد افسران حقیقی چیلنجز کا سامنا کرنے کےلئے خود کو تیار رکھیں۔ زیر تربیت افسران جہاں بھی جائیں اپنے فرائض منصبی ایمانداری اور وقار کے ساتھ سر انجام دیں اور عوام کی عزت نفس کا خیال رکھیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ دنیا چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہو چکی پے جس کی وجہ سے سائبر اسپیس اور موبائل ٹیکنالوجی کی افادیت بڑھ گئی ہے۔پرائیو یٹ سیکٹر کی طرز پر سرخ فیتے اور دیگر غیر ضروری لوازمات سے چھٹکارا حاصل کر کے ہی عوام کے مسائل کا حل کیا جاسکتا ہے ۔کسی بھی شعبہ میں عہدہ نہیں قائدانہ شخصیت کی اہمیت ہوتی ہے۔عزت و وقار صرف اخلاقیات کے اصولوں پر کاربند رہ کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.