پاک مالدیپ دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق

مالے جدت ویب ڈیسک پاکستان اور مالدیپ نے کہا ہے کہ سارک کا پلیٹ فارم جنوبی ایشیا کے ممالک کے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور اقتصادی و تجارتی ماحول کی بہتری کیلئے مواقع فراہم کر سکتا ہے جبکہ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان مالدیپ مشترکہ کاروباری کونسل کے قیام سے  مختلف شعبوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا  پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے شعبے میں مالدیپ کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہے۔وزیراعظم محمد نوازشریف کے اعزاز میں منگل کو یہاں ایوان صدر میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی صدارتی دفتر آمد پر صدر عبداللہ یامین نے وزیراعظم محمد نوازشریف کا پرتپاک خیر مقدم کیا، اس موقع پر وزیراعظم کو 7 توپوں کی سلامی دی گئی، پاکستان اور مالدیپ کے قومی ترانے بجائے گئے۔ مالدیپ کی مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے وزیراعظم کو سلامی پیش کی۔ وزیراعظم نے گارڈ آف آنر کا معائنہ بھی کیا۔ وزیراعظم نے مالدیپ کے صدر سے اپنے وفد کا تعارف کرایا جبکہ عبداللہ یامین نے کابینہ کے ارکان کو وزیراعظم سے متعارف کرایا۔ قبل ازیں وزیراعظم محمد نوازشریف مالدیپ کے دورے پر ویلانا انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر پہنچے تو صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم اور خاتون اول نے ان کا پرتپاک خیر مقدم کیا۔ بیگم کلثوم نواز، وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز بھی ان کے ہمراہ تھے۔ دو بچوں نے وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کو گلدستے پیش کئے۔ مالدیپ کی دفاعی فورسز کے د ستے نے انہیں سلامی پیش کی۔ بعد ازاں وزیراعظم محمد نوازشریف اور مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم نے وفود کی سطح پر مذاکرات کئے۔ مالے میں صدارتی آفس مالے میں ہونے والی ملاقات کے دوران وزیراعظم کی معاونت امور خارجہ کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز، سینیٹر پرویز رشید، پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر، وفاق ایوان ہائے صنعت و تجارت کے صدر اور دیگر اعلیٰ حکام نے کی۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان مالدیپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے جو باہمی عزت و احترام اور حقوق کے تحفظ پر قائم ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیاحت، تجارتی فروغ، اعلیٰ تعلیم اور انسانی وسائل کے شعبوں میں استعداد کار کے حوالے سے باہمی مفادات کی کئی یادداشتوں پر کئے جانے والے دستخطوں سے دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور فروغ دینے میں مدد ملے گی۔ وزیراعظم نے اقتصادی تعاون کی اہمیت پر خصوصی طور پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کی دو طرفہ تجارت بڑھانے کی ضرورت ہے جو اس وقت اپنی استعداد سے کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مالدیپ مشترکہ کاروباری کونسل کے قیام سے نہ صرف تجارت کو فروغ ملے گا بلکہ مختلف شعبوں میں کی جانے والی سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہو گا۔ وزیراعظم نے دفاع، صحت، تعلیم، کھیلوں، ماہی گیری، سیاحت اور ثقافت کے شعبوں میں دو طرفہ تعاون کے امکانات پر بھی خصوصی طور پر روشنی ڈالی۔ دونوں رہنمائوں نے اتفاق کیا کہ سارک کا پلیٹ فارم جنوبی ایشیا کے ممالک کے عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور اقتصادی و تجارتی ماحول کی بہتری کیلئے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان سارک کے چارٹر کے حوالے سے پرعزم ہے اور توقع کرتا ہے کہ سارک علاقائی تعاون کی ایک مثالی تنظیم ثابت ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان عالمی ماحولیاتی مسائل پر گہری تشویش رکھتا ہے جس کے باعث مالدیپ جیسے جزیرہ نما ممالک کو خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے شعبے میں مالدیپ کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہے۔ وزیراعظم نے مالدیپ کے صدر کے ساتھ علیحدہ ملاقات بھی کی۔ اس موقع پر وزیراعظم نے پرجوش استقبال اور مالدیپ کے 52 ویں یوم آزادی کی تقریبات میں شرکت کے خصوصی دعوت نامے پر مالدیپ کے صدر کا شکریہ ادا کیا۔دریں اثنائ ایم او یوز پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی جس میں پاکستان اور مالدیپ نے تجارت، تعلیم، سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کیلئے مفاہمت کی کئی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں، وزیراعظم محمد نوازشریف اور مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم بھی تقریب میں موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.