نواز شریف کی ’’تجربہ کار‘‘ ٹیم کا اور میگا کرپشن اسکینڈل بے نقاب

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس میں ایک سال کے دوران 22 ارب روپے کی کرپشن ہوئی ہے ساٹھ کروڑ روپے کرپشن کے مقدمات نیب کے پاس زیر تفتیش ہیں جبکہ چالیس کروڑ کرپشن کے مقدمات ایف آئی اے کے پاس ہیں اور اٹھارہ کروڑ روپے کرپشن کے مقدمات مختلف عدالتوں مین زیر سماعت ہیں‘ وزارت ہائوسنگ کے اینڈ ورکس کے حساس نوعیت کی دستاویزات میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اس کرپشن میں وزارت ہائوسنگ کے اعلیٰ افسران ملوث ہیں جنہوں نے کاغذات میں ٹمپرنگ ‘ پلاٹوں کی جعلی الاٹمنٹ اور سرکاری افسران کو رہائشی کوارٹرز کی الاٹمنٹ میں کرپشن جیسے سنگین جرائم سرزد ہوئے ہیں درجنوں افسران کے خلاف کرپشن کے مقدمات قائم کئے گئے ہیں۔ وزارت ہائوسنگ میں اربوں روپے کرپشن کی تحقیقات کیلئے پی اے سی کے چیئرمین نے دو کمیٹیاں تشکیل دے رکھی ہیں ان دو کمیٹیوں کے علاوہ دو خصوصی کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں جو وزارت مین مختلف نوعیت کے کرپشن کے درجنوں مقدمات کی تحقیقات کرنے پر مامور ہیں‘ وزارت ہائوسنگ کی اپنی کمیٹی پی ایچ اے میں اربوں روپے کی مالی بے قاعدگیوں بارے تحقیقات کرنے میں بھی مصروف ہے سرکاری دستاویزات میں یہ ثابت ہوا ہے کہ وزارت کا کوئی ایک ایسا منصوبہ نہیں ہے جس میں کرپشن نہ ہوئی ہو۔ رپورٹ کے مطابق پاک پی ڈبلیو کے افسران نے مختلف ترقیاتی منصوبے کا ٹھیکہ من پسند ٹھیکیداران کو الاٹ کرنے کیلئے کاغذات میں ٹمپرنگ کرنے کے مجرم قرار دیئے گئے ہیں اس کرپشن میں اعلیٰافسران ملوث ہیں لیکن ایک بھی افسر کیفرکردار تک نہیں پہنچ سکا۔ کاغذات میں ٹمپرنگ کرکے آٹھ کروڑ کے ٹھیکے دیئے گئے ہیں۔ وزارت کے اعلیٰ افسران نے ٹھیکیدار مافیا سے ملی بھگت کرکے تین ارب ستر کروڑ روپے کے ٹھیکے دیتے وقت 33 کروڑ کی انشورنس گارنٹی لینا گوارا ہی نہیں کی اس سکینڈل میں ڈائریکٹر جنرل پاک پی ڈبلیو اور سیکرٹری ہائوسنگ براہ راست ملوث ہیں۔ وزارت مین ایک انوکھا سکینڈل بھی سامنے آیا ہے جس میں وزارت کے اعلیٰ افسران نے تعمیراتی کام کا سرٹیفکیٹ حاصل کئے بغیر ٹھیکیدار کو 32 کروڑ روپے سے زائد کی ادائیگی کردی تھی اس سکینڈل کی تحقیقات ایف آئی اے کررہی ہے لیکن وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی عدم دلچسپی کے باعث ذمہ دار افسران کی ابھی تک گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق حنا ربانی کھر کے انتخابی حلقے میں کئے گئے ترقیاتی کاموں میں افسران نے چھ کروڑ روپے سے زائد کا نقصان قومی خزانہ کو پہنچا رکھا ہے اس مالی بے قاعدگی میں مظفر گڑھ کا ایگزیکٹو انجینئر ملوث قرار پایا ہے۔ پاک پی ڈبلیو لاہور کے ایگزیکٹو انجینئر نے ٹھیکیدار کو 9 کرور روپے کا فائدہ پہنچایا تھا جس کے خالف تحقیقات آخری مرحلہ میں ہیں اس کے خلاف لیب کی رپورٹ آئی ہے لیکن کارروائی عمل میں نہیں آسکی۔ وزارت ہائوسنگ اینڈ ورکس کے افسران نے عید ملن پارٹی‘ فوٹو سٹیٹ ‘ پیٹرول کی خریداری‘ وزیر ہائوسنگ کی چائے اور بسکٹ ‘ یو پی ایس ‘ ایل سی ڈی‘ سٹیشنری اور یوٹیلٹی بلز پر قومی خزانہ سے 30 کروڑ روپے کی خطیر رقم خرچ کی ےہ رپورٹ کے مطابق پاک پی دبلیو کی کرپٹ مافیا نے ٹھیکیداروں کو اضافی ریٹس دے کر ایک ارب روپے سے زائد کی مالی بدعنوانی کر رکھی ہے۔ کرپشن ثابت ہونے کے باوجود سیکرٹری ہائوسنگ ذمہ دار افسران کی نشاندہی نہیں کر سکے۔ دستاویزات کے مطابق پیٹرولیم ہائوس کیڈٹ کالج سیالکوٹ ‘ نیب کمپلیکس لاہور کی تعمیر مین مبینہ طور پر اٹھارہ کرور روپے کی مالی بدعنوانیاں سامنے آئی ہین سیکرٹری ہائوسنگ کرپٹ افراد کی نشاندہی کی بجائے مافیا کو بچانے میں مصروف ہیں۔ ٹوبہ ٹیک سنگ کے علاقے میں دریائے راوی پر پل کی تعمیر میں مبینہ طور پر ایک ارب 19 کروڑ روپے کی مالی بدعنوانی سامنے آئی ہے کرپشن ثابت ہونے کے باوجود وزارت کے اعلیٰ افسران کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.