/

ہمیشہ حق کیلئے لڑنے کا درس دینے والے کپتان نے ’’ہار‘‘مان لی

PTI Pakistan

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک چیئر مین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ این اے 120ضمنی انتخابات میں شکست تسلیم کرتے ہیں۔ ہم نے الیکشن مہم دیر سے شروع کی اگر پہلے شروع کرتے تو نتائج مختلف ہوتے۔ ن لیگ نے سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا اس کے باوجود ن لیگ کو اتنے کم ووٹ پڑے۔ جن لوگوں نے ن لیگ کو ووٹ دیئے انہوں نے کرپشن کا ساتھ دیا۔ آرٹیکل 62ایف ون مجھ پر لاگو نہیں ہو سکتا۔ میری نا اہلی نا ممکن ہے۔ فارن فنڈنگ کیس کی تفصیل الیکشن کمیشن کو دیدی ہے۔ پیر کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چیئر مین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا کی مہم جی ٹی روڈ سے شروع ہوئی۔ این اے 120میں ن لیگ کے 30فیصد ووٹ کم ہوئے ہیں۔ این اے 120میں سرکاری وسائل کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ وزیر الیکشن مہم چلا رہے تھے ۔ مجھے اور تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کو این اے 120میں جانے سے روکا گیا۔ سرکاری مشنری کے استعمال کے باوجود ن لیگ اتنے کم مارجن سے جیتی۔ عمران خان نے کہا کہ ن لیگ کو جو ووٹ پڑیں ، وہ ان لوگوں کے ووٹ ہیں جن کو ن لیگ نے نوازا ہوا تھا۔ تحریک انصاف کی مقبولیت بڑھی ہے۔ ن لیگ کی نہیں، عام انتخابات اور ضمنی انتخابات میں فرق ہوتا ہے، حمزہ شہباز بچوں کو کہتے ہیں کرپشن ہوتی ہے۔ نواز شریف کہتے ہیں کرپشن روکو گے تو ترقی رک جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں صادق اور امین ولگوں کی ضرورت ہے ، ن لیگ کو کم ووٹ پڑے، عدالت کی جیت ہوئی۔ جس قوم کی اخلاقیات نہ ہوں، وہ قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ ن لیگ کو ووٹ دینے والوں نے کرپشن کی حمایت کی۔ این اے120میں ہم نے الیکشن مہم دیر سے شروع کی اگر پہلے شروع کرتے تو ووٹوں کا مارجن کم کر سکتے تھے۔ ڈاکٹر یاسمین نے بڑی محنت کی انہوں نے کہا کہ ہم نے کے پی کے میں احتسابی عمل بہتر کیا، ضیائ اللہ آفریدی کے الزامات غلط ہیں۔ اپنے وزیروں کو کرپشن کے الزامات پر نہیں نکال سکتا۔ میں ضیائ اللہ آفریدی سے دوبار ملا ان سے وضاحت مانگی کہ آپ پر کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں۔ میں نے حامد خان کو کہا کہ صوبے میں جو بھی کرپشن میں ملوث ہوا اسے پکڑیں۔ پرویز خٹک پر کرپشن کے الزامات لگے لیکن ثبوت نہیں ملے۔ این اے120کے ضمنی الیکشن میں شکست تسلیم کرتے ہیں، 3یونین کونسلر کے نتائج غیر معمولی ہیں۔ ہم نتائج کا جائزہ لے رہے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ 2013ئ کے بعد عوام کی سوچ میں بہت تبدیلی آئی ہے، این اے120مسمل لیگ ن کا گڑھ ہے۔ اس کے باوجود ن لیگ کو ووٹ کم پڑا۔ نواز شریف کے گڑھ میں ان کا ووٹ کم ہوا ہے۔ اس سے لگتا ہے ن لیگ کا ووٹ اور کم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سمجھتا ہوں کہ ہمارا ووٹ بڑھا ہے اور یہ ووٹ اور بڑھے گا۔ مسلم لیگ ن کوئی نظریاتی یا سیاسی جماعت نہیں ہے۔ یہ مفاد پرست لوگوں کا ٹولہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ چوہدری نثار سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔ بلکہ مجھے ان پر غصہ ہے۔ چوہدری نثار نے ہم پر شیلنگ کرائی تھی۔ چوہدری نثار نے مریم نواز کے بارے میں جو کہا اس پر خوش ہوں۔ چوہدری نثار سے پارٹی میں آنے کے لئے کوئی بات نہیں ہوئی۔ چیئر مین تحریک انصاف نے کہا کہ لندن فلیٹ کی منی ٹریل عدالت کو دے دی ہے۔ لندن فلیٹ 35سال قبل خریدار گیا۔ میں کرکٹر تھا۔ میاں صاحب بھی بتاتے کہ انہوں نے فلیٹ کیسے خریدے۔ ایک آدمی باہر پیسہ کما کر پاکستان لایا تو وہ نا اہل کیسے ہو سکتا ہے؟ میں نے فارن فنڈنگ کی تفصیل40ہزار لوگوں کے نام جنہوں نے تحریک انصاف کو فنڈنگ کی اس کی تفصیل الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے خلاف تعصب سے کام کر رہا ہے۔ آرٹیکل 62ایف ون مجھ پر لگنا نا ممکن ہے۔ ہمیں حلال کی کمائی دولت پاکستان لیکر آیا ہوں۔ مجھے کیسے کوئی نا اہل کر سکتا ہے۔ کرپشن کے خلاف اگر ہم مہم چلائی گے تو اس میں آصف زرداری کے خلاف بھی مہم چلائیں گے۔ میری نواز شریف سے ذاتی دشمنی نہیں کرپشن کے خلاف مہم چلائی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.