آنگ سوچی روہنگیا مسلمانوں کوپورے حقوق دیں، جیریمی کوربن

لندن جدت ویب ڈیسک برطانیہ کی اپوزیشن لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن نے کہاہے کہ پاکستان کے ساتھ عزت سے پیش آنا چاہیے اور دوسرے ممالک کو اس پر تنقید سے گریز کرنا چاہیے۔دہشت گردی ختم کرنے کی بات صرف پاکستان سے نہ کی جائے،تمام ممالک کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنا ہو گا اور اس بات کا اطلاق سب پر ہوتا ہے۔میانمار کی رہنمائ آنگ سوچی کے لیے میرا پیغام احترام کا ہے، اور یہ کہ جب وہ گھر میں نظر بند تھیں تو ہم نے ان کی حمایت میں مارچ کیے اور انسانی حقوق کے لیے ان کی جدوجہد کی حمایت کی، تو اب وہ مہربانی کریں اور روہنگیا عوام کے انسانی حقوق کا بھی اسی طرح خیال رکھیںاور یہ یقینی بنائیں کہ میانمار میں ان کو شہریت کے پورے حقوق حاصل ہوں، انہیں اپنے ہی ملک میں اپنے ہی گھروں سے نہ نکالا جائے۔صدر ٹرمپ کی افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد میں اضافے کی نئی پالیسی افغانستان کے بارے میں ان کی ناکام پالیسی کا تسلسل ہے۔ میں اس کی حمایت نہیں کرتا، افغانستان کے مسئلے کا حل سیاسی مذاکرات ہیں،برطانوی ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ پاکستان ایسا ملک ہے جس کے ساتھ عزت سے پیش آنا چاہیے اور اس پر باہر سے تنقید نہیں ہونی چاہیے۔جیریمی کوربن کا کہنا تھا کہ تمام ممالک کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنا ہو گا اور اس بات کا اطلاق سب پر ہوتا ہے۔ کوربن کے بقول صدر ٹرمپ کی افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد میں اضافے کی نئی پالیسی افغانستان کے بارے میں ان کی ناکام پالیسی کا تسلسل ہے۔ میں اس کی حمایت نہیں کرتا، افغانستان کے مسئلے کا حل سیاسی مذاکرات ہیں۔جیریمی کوربن ماضی میں میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کی انسانی حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کے حامی رہے ہیں، اس سوال کے جواب میں کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مبینہ مظالم کو روکنے میں آنگ سان سوچی کے کردار پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے تو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟ کوربن کا کہنا تھا کہ میرا ان کے لیے پیغام احترام کا ہے، اور یہ کہ آپ جب گھر میں نظر بند تھیں تو ہم نے آپ کی حمایت میں مارچ کیے اور انسانی حقوق کے لیے آپ کی جدوجہد کی حمایت کی، تو آپ مہربانی کریں اور روہنگیا عوام کے انسانی حقوق کا بھی اسی طرح خیال رکھیںاور یہ یقینی بنائیں کہ میانمار میں ان کو شہریت کے پورے حقوق حاصل ہوں، انہیں اپنے ہی ملک میں اپنے ہی گھروں سے نہ نکالا جائے۔برطانیہ میں مانچسٹر اور لندن برج پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم اور تیزاب پھینکنے جیسے واقعات میں اضافے کے بعد برطانوی مسلمانوں میں خوف کا احساس بڑھا ہے۔ ان واقعات کی وجوہات اور تدارک سے متعلق ان کا کا کہنا تھاکہ نفرت پر مبنی جرائم چاہے مسلمانوں کے خلاف ہوں، یہودیوں کے خلاف ہوں یا کسی بھی مذہب کے خلاف ان کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سب ایک کمیونٹی کی حیثیت سے ان حملوں کے خلاف متحد ہیں اور یہ حملے کسی مخصوص کمیونٹی پر نہیں بلکہ ہم سب پر کیے گئے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.