//

وزیراعظم کا دوٹوک واضح اعلان :فوجی ایکشن نہیں لیں گے، طالبان نے افغانستان پر بزور طاقت قبضہ کیا تو افغان سرحد بند کر دیں گے

اسلام آباد:ویب ڈیسک :: وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ایک امریکی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان وسطی ایشیا کے ملکوں سے تجارت چاہتا ہے، پاکستان افغانستان کے ذریعے وسطی اشیا کے ملکوں سے جڑے گا، وسطی ایشیا کے کئی ملکوں سے تجارتی معاہدے بھی ہو چکے ہیں، لیکن افغانستان میں امن سے یہ کچھ ممکن ہوگا، افغانستان میں خانہ جنگی کی صورت میں یہ مواقع ضائع ہو جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دے رہے تھے، انھوں نے کہا افغان حکومت اور صدر اشرف غنی کو اپنی حمایت کا یقین دلایا ہے، افغانستان پر واضح کر دیا ہے کہ پر امن حل کے لیے پاکستان ہر ممکن کوشش کرے گا، اس سلسلے میں پاک افغان خفیہ ایجنسیوں کے درمیان رابطے ہیں، معلومات کا تبادلہ بھی کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا افغانستان کی سیاسی فوجی قیادت سے مسلسل رابطہ ہے، بدقسمتی سے افغانستان میں یہ سوچ ہے کہ پاکستان مزید اقدامات کرے، یہ مایوس کن ہے کہ کسی معاہدے پر نہ پہنچنے کا الزام ہم پر لگایا جاتا ہے، ہم افغان امن کے لیے تمام اقدمات اٹھا ئیں گے، ماسوائے طالبان کے خلاف فوجی ایکشن۔

عمران خان نے کہا تورا بورا میں بمباری پر القاعدہ کے چند سو ارکان پاکستان آ گئے تھے، اس وقت پاکستان، افغانستان کے طویل بارڈر پر روک ٹوک نہیں تھی، اب پاک افغان سرحد پر باڑ لگ چکی، فینسنگ کا 90 فی صد کام مکمل ہو چکا، طالبان نے افغانستان پر بزور طاقت قبضہ کیا تو افغان سرحد سیل کرنا پڑے گی، افغان تنازعے سے دور رہنے، اور مہاجرین کو روکنے کے لیے سرحد کی بندش ضروری ہوگی، ہم عوام کی نمائندہ افغان حکومت کو ہی تسلیم کریں گے۔

انھوں نے کہا خطے میں پاکستان اور بھارت دنیا کی بڑی مارکیٹ ہے، مستقبل میں بھارت سے بہتر تعلقات کے لیے پُر عزم ہوں، اور امید ہے بھارت سے تعلقات بہتر ہو جائیں گے، کسی بھی پاکستانی سے زیادہ میں بھارت کو جانتا ہوں، کرکٹ کی وجہ سے بھارت میں پیار اور عزت ملی، اقتدار سنبھالتے ہی نریندر مودی سے رابطہ کیا تھا، مودی کو بتایا میرا سب سے بڑا مقصد غربت کا خاتمہ ہے، لیکن بھارت سے تعلقات میں بہتری لانے کی کوششوں کا نتیجہ برآمد نہیں ہوا، مودی کی جگہ کوئی اور وزیر اعظم ہوتا تو شاید بات چیت سے تنازعات حل کر لیتے۔

انھوں نے کہا پڑوسی ملک بھارت کے مقابلے میں پاکستان اور امریکا کے تعلقات قریبی رہے ہیں، ہم امریکا سے مہذب اور برابری کی سطح کے تعلقات کے خواہاں ہیں، ایسے تعلقات جو 2 ملکوں کے درمیان ہونے چاہئیں، ایسے تعلقات جیسے امریکا کے برطانیہ اور بھارت کے ساتھ ہیں، امریکا سے تجارتی تعلقات میں بھی بہتری چاہتے ہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ تعلقات متاثر ہوئے، امریکا سمجھتا تھا کہ امداد کے بدلے پاکستان اس کے ایما پر کام کرے گا، لیکن امریکا کی جنگ میں پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑی، 70 ہزار جانیں گئیں، 150 ارب ڈالر کا معیشت کو نقصان ہوا، پاکستان بھر میں دھماکے اور خود کش حملے ہوئے۔

وزیر اعظم نے کہا بد قسمتی سے پاکستان میں حکومتوں نے اپنی بساط سے بڑھ کر امریکا کی مدد کی، جس سے دونوں ملکوں کے درمیان عدم اعتماد پیدا ہوا، پاک امریکا تعلقات میں عوام نے بھاری قیمت چکائی، دوسری طرف امریکا نے ہمیشہ پاکستان کا تعاون ناکافی سمجھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب ہم امریکا سے تعلقات اعتماد اور مشترکہ مقاصد پر مبنی چاہتے ہیں، افغانستان سے متعلق پاکستان اور امریکا ایک سوچ رکھتے ہیں، تاہم افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد دونوں ممالک کے عسکری تعلقات پر کچھ کہہ نہیں سکتا، ہم چاہتے ہیں انخلا سے قبل افغانستان میں سیاسی مفاہمت کا عمل پورا ہو، امریکی فوج کی واپسی کے اعلان کو طالبان نے اپنی جیت تصور کیا، اور پاکستان کا طالبان پر اثر و رسوخ کم کرنے کا بھی سبب بنا۔

عمران خان نے کہا امریکا، طالبان کے مذاکرات کے لیے پاکستان نے اثر و رسوخ استعمال کیا، طالبان امریکا سے بات چیت کے لیے تیار نہیں تھے، پاکستان نے طالبان کو مذاکرات پر راضی کیا، اور وہ افغان حکومت سے بات پر راضی ہوئے۔

وزیر اعظم نے کہا ہم نے طالبان سے کہہ دیا ہے کہ طاقت کا استعمال طویل خانہ جنگی پر دھکیل دے گا، افغانستان میں خانہ جنگی ہوئی تو پاکستان بھی لپیٹ میں آئے گا، اور افغانستان سے زیادہ پاکستان میں پشتون آباد ہیں، خانہ جنگی ہوئی تو مزید افغان مہاجرین پاکستان کا رخ کریں گے، جب کہ پاکستان پہلے ہی 30 لاکھ افغان مہاجرین کا بوجھ برداشت کر رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.