سستے ذرائع متعارف کرادیئے‘ توانائی بحران پر قابوپالیں گے‘ وزیراعظم

prime minister of Pakistan

کراچی جدت وب ڈیسک وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ موجودہ حکومت نے بہت قلیل مدت میں ایل این جی کی صورت میں توانائی کے سستے ذریعے کو متعارف کرایا ، پورٹ قاسم پر ایل این جی ٹرمینل 330دنوں کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہوا ہے ، ریکارڈ مدت میں منصوبے مکمل کرنا موجودہ حکومت کا امتیازی وصف ہے جس کا بنیادی مقصد عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے ، ایل این جی کی درآمد سے قومی معیشت کو سالانہ 1.5ارب ڈالرز کا فائدہ پہنچے گا جبکہ مہنگے فرنس آئل کی بجائے سستی ایل این جی کے استعمال سے زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار اتوار کو یہاں پورٹ قاسم پر ایل این جی ٹرمینل کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ یہ ٹرمینل اینگرو ٹرمینل لمیٹڈ نے 330دنوں ریکارڈ مدت میں مکمل کیاہے جو 600ایم ایم ایس سی ایف بی گیس کی ری گیسیفیکیفشن کی استعداد کا حامل ہے۔ اس سے نہ صرف صنعتی ادارے توانائی کی اپنی ضروریات پوری کر سکیں گے بلکہ عوام کو بھی ریلیف ملے گا اور تیل سے مہنگی بجلی پیدا کرنے پر انحصار میں کمی واقع ہوگی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ موجودہ حکومت نے توانائی کے اس سستے ذریعے کو 14 ماہ سے کم عرصے میں ملک میں متعارف کرایا ہے ، ماضی کی تین حکومتوں نے پاکستان میں ایل این جی لانے کیلئے کئی کوششیں کیں لیکن انہیں کامیابی نہیں ملی ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی ضروریات کوپورا کرنے کیلئے ایل این جی ایک سستا ذریعہ ہے کیونکہ تیل اور جوہری ذرائع سے توانائی کی پیداوار کا عمل مہنگا ہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایل این جی کیلئے بولی کاعمل شفاف طریقے سے مکمل ہوا جس کا اعتراف بین الاقوامی برادری نے بھی کیا ہے، عالمی طور پر یہ خیال پایا جارہا تھا کہ پاکستان میں ایل این جی کو لانے میں کئی برس لگ سکتے ہیں لیکن موجودہ حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے بہت قلیل مدت میں ایل این جی کی صورت میں توانائی کے اس ذریعے کو متعارف کرایا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پورٹ قاسم پر ایل این جی ٹرمینل کا افتتاح 330دنوں کی ریکارڈ مدت میں مکمل ہوا ہے ، ریکارڈ مدت میں منصوبے مکمل کرنا موجودہ حکومت کا امتیازی وصف ہے جس کا بنیادی مقصد عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ ان کیلئے یہاں موجودگی خوشی کی بات ہے، توانائی کی اہمیت مسلمہ ہے،توانائی کی کمی کی وجہ سے ملک کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت تیل کی ترسیل اور استعمال کو آسان بنانا چاہتی ہے لیکن اس پر اخراجات بہت زیادہ ہیں اور ان کا حل ایل این جی کی صورت میں توانائی کی فراہمی کی صورت میں موجود ہے، ماضی میں ملک میں ایل این جی لانے کی متعدد کاوشیں کی گئیں لیکن ناکام رہیں جسکی مختلف وجوہات ہیں، ماضی میں ٹرمینلر کی تعمیر کے بغیر ایل این جی لانے کی کوششیں کی گئیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے نجی شعبے کی معاونت سے ایل این جی ٹرمینل تعمیر کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ توانائی سے متعلق مسائل کا حل موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل رہاہے ، وزیر اعظم نے کہاکہ معاہدے پر دستخط کے بعد ایل این جی ٹرمینل کی تعمیر کاعمل گیارہ ماہ کی ریکارڈ مدت میں مکمل کیاگیا۔وزیر اعظم نے کہاکہ ٹرمینل کی تعمیر میں حکومت کے ساتھ ساتھ مختلف اداروں نے تعاون فراہم کیا ، ٹرمینل کی تعمیر کیلئے دو پارٹیوں نے بولی کے عمل میں حصہ لیا اور یہ سارا عمل انتہائی شفاف طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچایاگیا۔دنیا بھر میں اتنی کم مدت میں کوئی ٹرمینل مکمل نہیں کیا جا سکا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک میں ایل این جی کی درآمد کے بعد توانائی سے متعلق مسائل کو کم کرنے میں مدد ملی ہے ، گیس کی کمی کی وجہ سے سی این جی کے شعبے پر اثرات مرتب ہوئے تھے تاہم ایل این جی کی درآمد کے بعد نہ صرف سی این جی کے شعبے کو گیس کی فراہمی میں مدد ملی ہے بلکہ صنعتوں بالخصوص کھادسازی کی صنعت کو بلاتعطل گیس فراہم کی جارہی ہے جبکہ بجلی کی پیداوار کے شعبے پر بھی نہایت اچھے اثرات مرتب ہورہے ہیں، ایل این جی کی درآمد سے قومی معیشت کو سالانہ 1.5ارب ڈالرز کا فائدہ پہنچے گا جبکہ مہنگے فرنس آئل کی بجائے سستی ایل این جی کے استعمال سے زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔ وزیراعظم نے کہا کہ ٹرمینل کی تعمیر انتہائی خوش آئندہ ہے اور اس سے مجموعی قومی معیشت پر خوشگوار اثرات مرتب ہونگے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اب تک ایل این جی کے سو جہاز آ چکے ہیں جن پردرآمدی ایل این جی کا حجم 6.1ملین ٹن تھا، ایل این جی کی درآمد سے بجلی، کھادسازی،ٹیکسٹائل اوردیگرصنعتوں کو آرایل این جی کی فراہمی میں مدد مل رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ 600 ملین ایم ایم سی ایف ڈی آرایل این جی کی فراہمی سے اینگروٹرمینل ملک میں گیس کی فراہمی کا بڑاذریعہ بن چکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دوسرا ایل این جی ٹرمینل نومبر میں کام شروع کریگا جبکہ نجی شعبے کے تعاون سے مزید تین ایل این جی ٹرمینلز قائم کئے جائیں گے، توانائی بحران کے تناظر میں اس شعبے میں نجی شعبے کی شمولیت خوش آئند ہے۔شاہد خاقان عباسی نے ایل جی ٹرمینل کے افتتاح کو سراہتے ہوئے اس یقین کا اظہارکیاکہ ملک میں توانائی کے مسائل پر عنقریب قابو پالیا جائیگا، ایل این کی ٹرمینل کا افتتاح درست سمت میں صحیح اقدام ہے جس کے دوررس اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ بنگلہ دیش اوردیگرممالک کے مقابلے میں پاکستان نے انتہائی قلیل مدت میں ایل این کی درآمد اورمختلف صنعتوں میں اس کے استعمال کو ممکن بنایا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.