/

نواز شریف اور آصف زرداری نے پیسے کمانے کےلئے اداروں کو تبا ہ کر دیا ،عمران خان

PTI

حیدرآباد جدت ویب ڈیسک پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ اندھیری رات ختم ہو چکی نوازشریف اور ان کے خاندان کی سیاست کا خاتمہ ہو گیا انہیں الوداع، الطاف حسین پہلے ہی ختم ہو چکا ہے اور اب بمبینو سنیما کے ٹکٹ بیچنے والے زرداری کی باری ہے، میں جب تک زندہ ہوں ان کرپٹ لوگوں کا مقابلہ کروں گا انہیں شکست دے کر نیا پاکستان بنائیں گے۔وہ حیدرآباد ہٹڑی بائی پاس پر تحریک انصاف کے جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔عمران خان نے کہا کہ شیخ رشید کا ہی نہیں میرا بھی حیدرآباد کے لوگوں نے دل جیت لیا ہے لیکن سندھ کے عوام کو میں یاد دلانا چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کہا ہے کہ وہ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ خود اس کے لئے جدوجہد نہ کرے اس لئے ظلم اور ناانصافی کے خلاف جدوجہد سے ہی حالات تبدیل ہو سکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جہاد ہماری بہتری کے لئے فرض کیا ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کے ساتھ جس بڑے پیمانے پر ظلم ہو رہا ہے ویسا کہیں اور دیکھنے میں نہیں آیا آج ایئرپورٹ سے جلسہ گاہ تک آتے ہوئے حیدرآباد کی میں نے جو حالت دیکھی ہے گندگی اور کچرے کے ڈھیر ملک کے کسی اور حصے میں کبھی نہیں دیکھے، انہوں نے کہا کہ میں 24 سال سے سندھ آ رہا ہوں اس لئے میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ سندھ کے حالات بگڑے ہیں بہتر نہیں ہوئے، انہوں نے کہا کہ میں آج سندھ کے عوام سے وعدہ لینے آیا ہوں کہ میں سندھ کے ظالموں کا مقابلہ کروں گا اور وہ میرا ساتھ دیں گے سندھ کی سب سے بڑی بیماری آصف علی زداری ہے وہ پیپلزپارٹی کے 30 سال کے دورہ اقتدار سے پہلے سے جانتا ہوں وہ بمبینو سنیما کے ٹکٹ بلیک کرتا تھا اس کے والد کے پاس صرف 150 ایکڑ زمین تھی آج آصف علی زرداری کے پاس 1 لاکھ ایکڑ زرعی زمین ہے 19 شوگرملیں ہیں لندن امریکا دبئی فرانس میں محل ہوٹل اور دیگر جائیدادیں ہیں یہ سب پیسہ نوازشریف کی طرح زرداری نے بھی چوری کرکے باہر بھیجا اور اس سے یہ جائیدادیں بنائیں، انہوں نے کہا کہ نوازشریف اور زرداری نے اس قوم پر جو ظلم کیا ہے وہ دشمن بھی نہیں کر سکتا، انہوں نے کہا کہ اگر نیب ایماندار ادارہ ہوتا، ایف بی آر خودمختار ہوتا، ایف آئی اے فرض شناس ہوتا اورعدالتیں سپریم کورٹ کی طرح کام کرتیں تو ان سب کی کرپشن پکڑی جاتی اور یہ سب جیلوں میں ہوتے، انہوں نے کہا کہ زرداری اور نوازشریف نے میثاق جمہوریت کے نام پر مک مکا کیا اور الیکشن کمیشن، نگراں حکومت، نیب یہ سارے ادارے من پسند بنائے اسی کا نتیجہ ہے کہ ان کی کرپشن کو کوئی روکنے والا نہیں رہا اور آج اس خطے میں پاکستان، بھارت بنگلادیش سب سے پیچھے رہ گیا ہے، صرف ان دو خاندانوں اور ان کے بچوں نے ترقی کی ہے، انہوں نے کہا کہ نوازشریف تو اب گھر چلا گیا اب ہم زرداری کے پیچھے ہوں گے اور اسے جیل میں ڈلوائیں گے، انہوں نے کہا کہ میں بلاول سے پوچھتا ہوں کہ وہ کیسے پیپلزپارٹی کا چیئرمین بن گیا ہے اس کے پاس ملک کے نظام کو ٹھیک کرنے کا کیا تجریہ ہے کیا اس نے اس ملک میں ایک دن بھی محنت کی ہے ایک کلو میٹر بھی پیدل چلا ہے، اگر گاڑی کا انجن بھی ٹھیک کرنا ہو اور کوئی معمولی ملازمت بھی حاصل کرنی ہو تو اہلیت اور تجربہ ہوچھا جاتا ہے لیکن تم یہاں حکومت کرنے آ گئے ہو، انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی تقریروں کی ویڈیو دیکھ کر ہاتھ ہلانے سے کوئی لیڈر نہیں بن جاتا اس کے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے، انہوں نے کہا کہ اگر تمہارے نانا بڑے لیڈر تھے تو انہوں نے محنت کی تھی اور ملک کے ایک ایک حصے میں گئے تھے، انہوں نے کہا کہ میں بلاول سے سوال کرتا ہوں کہ وہ 4 سال سے پارٹی کے چیئرمین ہے اس نے سندھ میں کیا کیا ہے، اس نے کبھی اپنے والد اور پھوپھی سے پوچھا کہ ان کے پاس اتنی دولت کہاں سے آ گئی ہے یہاں نوکریاں کون فروخت کرتا ہے رقم کس کو ملتی ہے، انہوں نے کہا کہ سندھ کے آئی جی برملا اس کا اظہار کیا ہے کہ میں پولیس کو کیسے ٹھیک کروں کیونکہ یہاں ڈی آئی جی ایس ایس پی اور دیگر افسران نوکریاں خرید کر آتے ہیں اور ظاہر ہے پھر وہ لوٹ مار کرکے اپنی رقم پوری کرتے ہیں، عمران خان نے کہا کہ فریال تالپور یہ بتائے کہ نوکریاں فروخت کرنے کا کون پیسہ لیتا ہے، آصف علی زرداری اور فریال تالپور بتائیں کہ ان کے لئے کتنا پیسہ کافی ہو گا کب ان کا پیٹ بھرے گا، کیا ان کا پتہ نہیں کہ کل 6 فٹ کی قبر میں جانا ہے، وہ 30 سال سے لوٹ مار کر رہے ہیں اربوں کھربوں روپے لوٹے ہیں اور سندھ سب سے پیچھے رہ گیا ہے یہاں غربت افلاس بیروزگاری سب سے زیادہ ہے، انہوں نے کہا کہ میں بار بار سندھ آئوں گا اور عوام کو ان ظالموں کے خلاف کھڑا کروں گا یہ پولیس کو ظلم کے لئے استعمال کرتے ہیں تھانوں میں انتقامی کاروائیاں ہوتی ہیں اب ان کا یہ دور ختم ہو چکا اور ہم احتساب کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے، عمران خان نے کہا کہ لاہور کا حلقہ این اے 120کبھی ذوالفقار علی بھٹو کا حلقہ تھا پیپلزپارٹی سندھ میں نہیں لاہور میں بنی تھی اور پیپلزپارٹی کے امیدوار تین مرتبہ یہاں سے کامیاب ہوئے تھے اب پیپلزپارٹی نے یہاں سے 1500 ووٹ لئے ہیں، یہ آصف علی زرداری کا کمال ہے کہ اس نے اتنی بڑی پارٹی کو اس انجام تک پہنچا دیا ہے، انہوں نے کہا کہ حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخاب سے پہلے اور اس کے دوران پہلے نوازشریف چار دن تک جی ٹی روڈ پر سپریم کورٹ کے خلاف روئے دھوئے کہ ہمیں کیوں نکالا اور سازش کا الزام لگایا، پھر ڈر ڈر کر فوج کے خلاف بولے اور الیکشن مہم کے دوران لوگوں کو اکسایا کہ وہ عدلیہ اور فوج کے خلاف ووٹ دیں جو ہمارے خلاف سازش کر رہی ہے، انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے بعد کوئی شک نہیں رہا کہ ڈان لیکس کے پیچھے کون تھا اور نریندر مودی کی زبان کون بول رہا تھا، انہوں نے کہا کہ یہ بین الاقوامی سازش ہے اب نوازشریف اور الطاف دو گاڈ فادر لندن میں جمع ہو گئے ہیںوہ دونوں اب وہاں سے ٹیلیفون کے ذریعے پاکستان اور فوج کے خلاف اور اپنے دوست نریندر مودی کی تعریف میں خطاب کیا کریں گے، انہوں نے کہا کہ اندھیری رات ختم ہو چکی نوازشریف الوداع ہو چکا، الطاف حسین پہلے ہی ختم ہو چکا ہے اور زرداری اب تمہارا وقت بھی ختم ہونے جا رہا ہے، انہوں نے کہا کہ حلقہ 120 جو مسلم لیگ ن کا گڑ رہا ہے وہاں وفاقی صوبائی وزرائ نے تمام سرکاری وسائل استعمال کئے پیسے سے ووٹ خریدے انتظامیہ اور پولیس بھی انہی کی تھی اس کے باوجود مسلم لیگ کے 30 فیصد ووٹ کم ہو گئے اس کا مطلب یہ ہے کہ شریف خاندان خداحافظ اس کا سیاست کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ ہو گیا، انہوں نے کہا کہ میں بلاول کے بارے میں کیا کہوں وہ بچہ ہے اب بچے سیاست میں آ گئے ہیں ادھر بلاول ہے اور ادھر مریم اس کا بیٹاپھر حمزہ شریف سلیمان شریف سب میدان میں نکل رہے ہیں مگر یہ جان لیں کہ ان سب کا وقت ختم ہو گیا ہے میں جب تک زندہ ہوں ان کا مقابلہ کروں گا اور ان کو شکست دے کر نیا پاکستان بنائیں گے، عمران خان نے دعویٰ کیا کہ کے پی کے میں 4 سال کے دوران تحریک انصاف کی حکومت نے پنجاب کے مقابلے میں غربت میں 5 گنا کمی کر دی ہے جبکہ سرکاری اسکولوں کا معیار اس قدر بلند ہو گیا ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں سے ڈیڑھ لاکھ بچے سرکاری اسکولوں میں آ گئے ہیں جو غریبوں کے بچے ہیں، 100 فیصد اسکولوں میں اب ٹیچرز موجود ہیں، انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی نے سندھ میں اور شریف خاندان نے پنجاب میں چھ چھ باریاں لی ہیں مگر وہ کوئی ایک ایسا ہسپتال نہیں بنا سکے جہاں نوازشریف شہباز شریف کلثوم نواز اور آصف علی زرداری کا علاج ہو سکے جبکہ میں جب بھی بیمار ہوا ہوں حادثے کا شکار ہوا ہوں تو میرا مکمل علاج شوکت خانم ہسپتال میں ہوا ہے اور اب کراچی میں بھی اسی معیار کا شوکت خانم ہسپتال بنے گا اور سندھ کے لوگوں کو کینسر کے علاج کے لئے کہیں باہر نہیں جانا پڑے گا غریبوں کا وہاں مفت علاج ہو گا، انہوں نے کہا کہ ہم نے کے پی کے میں پولیس کو غیرجانبدار اور سیاست سے پاک کر دیا ہے لیکن سندھ اور پنجاب میں پولیس کو سیاست اور انتقامی کاروائیوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے یہاں دانستہ طور پر پولیس کو ٹھیک نہیں کیا گیا، ہم جب پاکستان اور سندھ میں اقتدار میں آئیں گے تو پولیس کو غیرجانبدار بنائیں گے اور اسے ڈاکوئوں اور ظالموں کے خلاف استعمال کریں گے، انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت ایسا نظام قائم کرے گی کہ محنت کرنے والے لوگوں کو بلاامتیاز اوپر آنے اور ترقی کرنے کا موقع ملے، اس وقت نوکریاں بک گئی ہیں اس لئے محنت کرنے والے نوجوان دوسرے ملکوں میں جانے پر مجبور ہیں جبکہ یہاں مزدور کسان سب اپنے محنت کے پھل سے محروم ہیں چھوٹے کسانوں کا پانی کا حق مارا جاتا ہے اور بڑے زمیندار عیش و عشرت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں کوئی ترقی ہوئی ہے تو وہ صرف شریف خاندان اور زرداری خاندان کی ہوئی ہے جن سے نجات حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.