کوئٹہ پھر لہو لہو، مسلح افراد کی فائرنگ سے ہزارہ برادری کےکئی فراد جاں بحق

کوئٹہ جدت ویب ڈیسک :صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں کاسی روڈ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 5 افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔پولیس کے مطابق واقعہ شہر کے مصروف علاقے کاسی روڈ پر پیش آیا جہاں نامعلوم موٹرسائیکل سوار مسلح ملزمان نے وین کو نشانہ بنایا۔ وین میں سوار افراد ہزار گنجی سبزی منڈی جارہے تھے ۔پولیس کا کہنا ہے کہ جیسے ہی وین کاسی روڈ پر پہنچی تو پہلے سے گھات لگائے ملزمان نے بس پر اندھادھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 5افراد موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ مرنے والوں میں 3 ہزارہ برادری کے افراد بھی شامل ہیں ۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پرپہنچ گئیں اور لاشوں کو ایمبولینسوں کے ذریعیاسپتال منتقل کردیا جہاں مرنے والوں کی شناخت حاجی محمد ،صالح محمد ،خادم حسین ،سید سرور اورمحمد علی کے نام سے ہوئی ہے۔دوسری جانب پولیس نے جائے وقوعہ سے ابتدائی شواہد اکٹھے کرلیے ہیں جبکہ جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول بھی ملے ہیں ۔پولیس نے عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کرتے ہوئے ملزمان کی تلاش کے لیے اطراف کے علاقے میں ناکہ بندی کرلی ہے۔خیال رہے کہ صوبہ بلوچستان میں مختلف کالعدم تنظیمیں، سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث رہی ہیں جبکہ گذشتہ ایک دہائی سے صوبے میں فرقہ وارانہ قتل و غارت میں اضافہ ہوا ہے، واضح رہے کہ گذشتہ 15 سال میں صوبے بھر میں ہزارہ کمیونٹی پر حملوں کے 1400 واقعات سامنے آئے۔یاد رہے کہ بلوچستان میں فرقہ وارانہ دہشت گردی میں ہزارہ کمیونٹی کو ان کے نمایاں جسمانی خدو خال کے باعث با آسانی شناخت کے وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔10 ستمبر کو کوئٹہ کے علاقے کچلاک میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 4 افراد جاں بحق اور دو خواتین زخمی ہوگئیں تھیں۔اس سے قبل 4 جون کو کوئٹہ کے علاقے سپینی روڑ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہزارہ برادری سے تعلق رکھنیوالی ایک خاتون اور مرد جاں بحق ہوگئے تھے جبکہ 19 جولائی کو بلوچستان کے علاقے مستونگ میں فائرنگ سے 4 افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔پولیس نے جائے وقوعہ سے گولیوں کے خول سمیت دیگر شواہد اکٹھے کرلئے،ملزمان کی تلاش کیلئے آس پاس کے علاقوں کی ناکہ بندی کرکے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published.