سری لنکا سے سیریز ٹیم کے لیے چیلنج ہوگا اور ٹیم ہمیں ٹف ٹائم دے گی۔قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد

جدت ویب ڈیسک :لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا کہ کوشش ہوگی کہ مصباح کی طرح پوری ٹیم کو ساتھ لے کر چلوں لیکن کپتان اکیلا کچھ بھی نہیں کرسکتا۔مصباح الحق کی طرح پوری ٹیم کو ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کریں گے۔سرفراز احمد نے کہا کہ پوری ٹیم کا مقصد پاکستان کے لیے اچھا پرفارم کرنا ہے، انضمام الحق بطور چیف سلیکٹر مجھے بہت سپورٹ کرتے ہیں اور میری رائے کا بھی خیال رکھتے ہیں، پاکستان میں کرکٹ کے حوالے سے پوری ٹیم اور منیجمنٹ ایک ہی پیج پر ہیں جو کہ خوش آئند ہے۔قومی کپتان کا کہنا تھا کہ چیمپئنز ٹرافی کا فائنل زندگی بھر یاد رہے گا اور اس ٹیم میں شامل کوئی بھی کھلاڑی ان لمحات کو نہیں بھول سکتا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کی قیادت کرنا ہمشیہ چیلنج رہا ہے اور ابھی ورلڈ کپ دور ہے، اس سے پہلے ہمیں ہر شعبے میں آہستہ آہستہ مزید بہتری لانی ہے۔سرفراز احمد نے کہا کہ وہاب ریاض کی بولنگ اسپیڈ بہت بہتر ہے اور عامر کی رفتار بھی بہتری کی طرف جارہی ہے جب کہ یاسر شاہ نے فٹنس ٹیسٹ پاس کرلیا ہے اور وہ مکمل فٹ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیمیں پاکستان ضرور آئیں گی اور آنے والے دنوں میں بھارتی ٹیم بھی پاکستان آنے کے بارے میں ضرور سوچے گیانہوں نے کہا کہ ٹیم کے ہر شعبے میں آہستہ آہستہ بہتری آرہی ہے، سری لنکا کی ٹیسٹ ٹیم بہت اچھی ہے لیکن ہمارا فاسٹ بولنگ کا شعبہ بہت مضبوط ہے۔قومی ٹیم کے کپتان کا کہنا تھا کہ ہر کپتان کی کوشش ہوتی ہے کہ پہلے میچ میں کامیابی حاصل کروں جب کہ میں لمبے عرصے کے لیے نہیں بلکہ میچ ٹو میچ منصوبہ بندی کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ مصباح الحق نے ٹیم کو نمبر ون پوزیشن پر پہنچایا ہے لہٰذا مصباح اور یونس خان کے نہ ہونے سے فرق پڑے گا اور میرے لیے یہ ایک نیا چیلنج ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.