برما میں ظلم و بربریت کیخلاف مسلمان متحدہو جائیں، اراکین سینٹ

Pakistan

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک حکومتی و اپوزیشن اراکین سینٹ نے کہاہے کہ برما میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کر نا چاہیے ، مسلمان متحد ہو کر مظلوموں کے ساتھ زیادتیوں کا جواب دیں، روہنگیا مسلمانوں پر مظالم رکوانے کے لئے اسلامی دنیا سے مضبوط پیغام آنا چاہیے جبکہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ پاکستان روہنگیا مسلمانوں کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔بدھ کو سینٹ کے اجلاس کے دوران برما کے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے حوالے سے تحریک التوائ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے سینیٹر عتیق شیخ نے کہا کہ برما میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے اور روہنگیا مسلمانوں پر مظالم بند کرانے چاہئیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ سینٹ کے ارکان کو اپنے خرچ پر روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں کا دورہ کرنا چاہیے اور ان سے ہمدردی ظاہر کرنی چاہیے اور ان کی حالت زار کے حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی جائے جو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو بھیجی جائے۔ سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا کہ آنگ سانگ سوچی نوبیل انعام یافتہ ہے لیکن اس کے باوجود ان کی حکومت روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کر رہی ہے، روہنگیا مسلمانوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے برما کی صورتحال پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا جانا چاہیے۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ روہنگیا کے مسلمانوں کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، عالمی برادری کو ان کے تعاون کے لئے آگے آنا چاہیے، مسلمانوں کو متحد ہو کر اس طرح کی زیادتیوں کا جواب دینا چاہیے۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم رکوانے کے لئے اسلامی دنیا سے مضبوط پیغام آنا چاہیے، برما کی حکومت کو ان مظالم سے روکنا ہو گا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ سلامتی کونسل کو روہنگیا مسلمانوں پر مظالم بند کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، مسلمانوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے ان بھائیوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف ہر طرح سے آواز بلند کریں اور ان کو ان مظالم سے نجات دلائیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپین یونین کے سخت ردعمل کے بعد برما میں عیسائیت اقلیت کے ساتھ برما کی حکومت کے رویئے میں تبدیلی آئی ہے، مسلمانوں پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں، مسلمانوں کو بھی اب اسی طرح کا ردعمل دینا چاہیے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ میں خود ان کیمپوں کا دورہ کر چکا ہوں، وہاں پر لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں، پاکستانی حکومت کو بنگلہ دیش کی حکومت سے بات کر کے پناہ گزینوں کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ بنگلہ دیش کی طرف سے امدادی کام کرنے والوں کو ویزے نہیں دیئے جا رہے ہیں، ترکی پناہ گزینوں کی مدد کے لئے بھرپور کام کر رہا ہے، برما میں متاثرین تک رسائی نہیں دی جا رہی، ان کیمپوں میں حالات مخدوش اور بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ چیئرمین سینٹ کو روہنگیا مسلمانوں کی امداد کے لئے کمیٹی تشکیل دینی چاہیے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ میانمر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم انتہائی تشویش کا باعث ہیں، عالمی برادری اس کا فوری نوٹس لے اور میانمر سے فوجی ساز و سامان کی فراہمی فوری بند ہونی چاہیے۔ سینیٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ عالمی برادری روہنگیا مسلمانوں پر مظالم بند کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.