حیدرآباد سندھ کی تاریخ اور شاہی بازار کےقیام کا پس منظر

//

کراچی ۔ویب ڈیسک ::حیدرآباد سندھ کی تاریخ اور شاہی بازار کےقیام کا پس منظر
 پہلے اس کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں – شاہی بازار قلعہ حیدرآباد کے سامنے سے شروع ہوتا ہے۔

بازارکے دونوں اطراف پورا حیدرآباد واقع ہے۔ شاہی بازار ایک بالکل سیدھی سڑک کی طرح ہے ، اس کے دونوں اطراف دکانیں ہیں، یہ بازار کلہوڑوں اور تالپوروں نے بنوایا تھا، مگر ڈھائی سو سال گزرنے کے بعد آج بھی قائم ہے۔ جب غلام شاہ کلہوڑو نے حیدآباد کو آباد کیا تو انہوں نے عوام کو قلعے کے باہر، اور خود قرابت داروں اور اشرافیہ کے ساتھ قلعے میں رہنے لگے – باہر انہوں نے پیشوں کے لحاظ سے بستیاں آباد کیں یہ شہر کلہوڑوں کے دور سے پہلے صرف قلعہ حیدرآباد تک محدود تھا اور اس وقت اس کا نام نیرون کوٹ تھا۔ پکا قلعہ سندھ کا تخت گاہ تھا اور کچا قلعہ فوج کی چھاؤنی تھی جو کہ غلام شاہ کلہوڑو نے تعمیر کروایا تھا. جس کا مقبرہ ہیرآباد میں موجود ہے.

تالپوروں نے جب ہالانی کی جنگ میں کلہوڑوں کو شکست دے کر قلعے کو فتح کیا تو میر فتح علی خان تالپور نے قلعے کے دروازے کے بالکل عین سامنے شاہی رستوں پر بازار بنوایا جو شاہی بازار کے نام سے اب تک جانا جاتا ہے ۔شاہی بازار بالکل سیدھا اور سائے دار بازار تھا اس کے دونوں جانب آبادیاں وجود میں آئیں ،بازار کے مشرق میں زیادہ تر مسلم آبادیاں تھیں اور مغرب میں ہندو آباد تھے.غلام شاہ کلہوڑو نے حیدرآباد کو آباد کرتے وقت اس بات کا خاص خیال رکھا تھا کہ قلعے کے صدر دروازے کے سامنے محلے آباد کئے جائیں ، بعد میں میران تالپور نے ایک لمبے بازار کا اضافہ کیا، جو شاہی بازار کہلایا ، یہ تقریباً دو میل لمبا ہے، کارخانوں، فیکٹریوں اور دوسرے علاقوں میں تیار ہونے والا سامان بازاروں میں لایا جاتا ہے، جہاں سے لوگ انہیں خرید کر اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں۔ شاہی بازار بھی ایک ایسا ہی بازار ہے جہاں ایک ہی جگہ تمام چیزیں بآسانی دستیاب ہوتی ہیں۔
میروں کے دور میں حیدرآباد میں بڑھئی کو خدا آباد سے لا کر بسایا گیا ،جس جگہ وہ لوگ رہتے تھے، اس کا نام ’’واڈھوں کا پڑ‘‘ رکھا گیا، اسی طرح مکان بنانے والے مزدوروں کو جنہیں سندھی زبان میں ’’رازے‘‘ کہا جاتا ہے یہاں لاکر ’’رازوں کے پڑ‘‘ میں بسایا گیا، فوجی ضرورت کے لئے تیورا قوم کے لوگوں کو آباد کیا گیا، یہ تلواروں کو چمکانے اور ان کی دھار تیز کرنے کا کام کیا کرتے تھے۔ اسی طرح رتنائیوں کے پڑ میں رتنائیوں کو بسایا گیا۔ یہ لوگ خیمے اور تنبو بناتے تھے۔ گھوڑوں کے نعل لگانے والے، نعل بندن گھٹی میں کلہوڑوں کے وقت سے رہ رہے تھے۔ شہر میں ’’گولہ اندازو‘‘ بھی آکر رہے، یہ لوگ توپیں اور ان کا بارود بناتے تھے۔ میروں نے حیدرآباد میں ہر قسم کے کاریگر لاکر بسائے ان میں کوری (کپڑا بننے والے)، کھنبانی (کپڑے رنگنے والے)، رنگزی، زردوز، پاٹولی (ریشم کا کپڑا بنانے والے) اور قصاب شامل ہیں۔ اس کے علاوہ زرگر (سنار)، کھٹی (دھوبی)، پھنی گر (کنگھیاں بنانے والے)، سراز (جانوروں کی زین بنانے والے)، ٹھاٹھار (برتن بنانے والے)، طبیبوں، آخوندوں ( یہ لوگ مدرسوں میں پڑھاتے تھے، ان سمیت خدمت گاروں اور چھوٹے نوابوں کو بھی بسایا اور انہیں اچھی جگہیں دیں ۔

تالپوروں کے دور میں حیدر آباد قلعے کے دروازے کے سامنے سے شروع ہو کر سرے گھاٹ پر ختم ہوجاتا تھا۔ شاہی بازار کے دونوں طرف محلے آباد تھے۔ میر فتح علی خان نے تالپوروں کی حکومت قائم کی ان کے دور میں حیدرآباد کو عروج نصیب ہوا،
اس میں تقریباً 2500 دکانیں ہیں، جب بازار میں داخل ہوں گے،تو سب سے پہلے حاجی ربڑی وا لے کی دُکان آتی ہے، جو تقسیم ہند کے وقت سے قائم ہے، قیام پاکستان سے بھی پہلے یہ بازار اسی حالت میں تھا ،جب حاجی ربڑی والے کی دکان سے تھوڑا آگے چلیں، تو سنار یا صرافہ بازار شروع ہو جاتا ہے، جہاں سونے کی تجارت ہوتی ہے ، پورے حیدر آباد میں اس سے بڑا کوئی صرافہ بازار نہیں۔تھوڑا اور آگے چلیں تو مختلف اشیاء کی دکانیں نظر آئیں گی۔یہاں ہوزری کا سامان، پیپر ڈیکوریشن، گھڑیاں، جوتے، چپل ،شیشے، کپڑا ،بتاشے، سندھی ٹوپی، رومال، دھاگے، گرم بستر غرض کہ ضرورت کا ہر سامان میسر ہے۔

بتاشہ گلی شاہی بازار میں، بیحد مشہور ہے، یہ گلی کھنبانی گھٹی ،ریشم گلی کے سامنے ہے اس گلی میں بتاشے، ریوڑیاں، گجک اورکھانے کی دیگر اشیاء ملتی ہیں، اسی وجہ سے اسے بتاشہ گلی کہتے ہیں۔مکھ کی گھٹی یا مکتی گلی
یہ گلی فقیر کے پڑ اور سرور قبی لین کے درمیان واقع ہے، یہاں کسی زمانے میں مکھی گوبندرام کے آباؤاجداد رہا کرتے تھے ،اس لیےاس کا نام مکھین کی گھٹی پڑا لوگ کہتے ہیں کہ دیوان شوتی رام جو کہ ہندو پنچائیت کا مکھیا، تھا اس گلی میں رہتا تھا اسی وجہ سے اس کانام مکھ کی گھٹی پڑا۔ مگر اب اس کا نام مکتی گلی ہے اور یہاں کھلونے ملتے ہیں ،مگر کھلونے ہول سیل کے حساب سے ملتے ہیں ، جودوسرے علاقوں کے دکان دار یہاں سے خرید کر لے جاتے ہیں۔

چھوڈکی گھٹی یاچھوٹی گھٹی
یہ گلی جو اب چھوٹی گھٹی کے نام سے مشہور ہے، کبھی چھوڈ (چھال) اور چمڑے کے کاروبار کی وجہ سے ’’چھوڈ‘‘ کہلاتی تھی، کیوں کہ سندھی میں پیڑ کی چھال کو چھوڈ کہتے ہیں، جو چمڑا رنگنے کے کام آتی ہے چھوڈ سے پہلے اسکا نام ’’سمی چاڑی‘‘ تھا۔بلاشبہ شاہی بازارکا شمار قدیم ترین بازاروں میں ہوتا ہے، کسی زمانے میں اس کی رونق اور چرچے پورے ہندوستان میں ہوتے تھے، اسے سندھ کا معاشی حب کہا جاتا تھا
تحریر : الله بچایو میمن

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Previous Story

والد اور بہن نے میرے خوابوں کا خون کردیا، برٹنی اسپیئرز

Next Story

شلپا شیٹھی کے شوہر راج کندرا کو حراست میں لے لیا,ممبئی پولیس

Latest from اہم خبریں