کلثوم اور مریم شہباز شریف کی حاکمیت تسلیم نہیں کریںگی‘شیخ رشید

Kulsoom Nawaz mariam nawaz

کراچی جدت ویب ڈیسک عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کے فیصلے کے بعد حالات یہ بتارہے ہیں کہ نیب ریفرنس میں نواز شریف جلد گرفتار ہونے کے ساتھ ساتھ سیاست سے مکمل طور پر آئوٹ ہوجائیں گے۔ شریف خاندان میں اختلافات کی خبریں زیر گردش ہیں لیکن بیگم کلثوم نواز اور مریم نواز کبھی بھی شہباز شریف اور ان کی فیملی کی مسلم لیگ میں حاکمیت کو تسلیم نہیں کریں گی، نواز شریف کو سپریم کورٹ سے کم سزا ہوئی ہے۔ نواز شریف نے اداروں سے ٹکرائو کی پالیسی اختیار کررکھی ہے۔ اس پالیسی سے جمہوریت کو تو نہیں بلکہ انہیں خود نقصان ہوگا۔ اب ملک میں سیاسی اتحاد بننے کا موسم شروع ہوچکا ہے۔ اس موسم میں مختلف پرندے اپنے گھونسلوں کو تبدیل کریں گے اور نئے گھرانے تلاش کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو مقامی ہوٹل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عوامی مسلم لیگ سندھ کے صدر سید ریحان شاہ اور دیگر بھی موجود تھے۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ چوہدری نثار کی پریس کانفرنس سے کوئی نئی بات نہیں نکلی ہے۔ اس وقت پرویز رشید چوہدری نثار پر حاوی ہوگئے ہیں۔ چوہدری نثار نے اپنے اختلاف کی وجہ تو نہیں بتائی، وہ پکے مسلم لیگی ہیں۔ حالات کچھ بھی ہوں، وہ پارٹی تبدیل نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے اس بات کو مانتے ہیں کہ چوہدری نثار ڈان لیکس میں ملوث نہیں ہیں۔ ڈان لیکس کی رپورٹ منظر عام پر آنی چاہئے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو ان کے مشیروں نے آج اس مقام تک پہنچایا ہے۔ نواز شریف اب بھی سمجھ نہیں آرہی ہے۔ وہ اب بھی ٹکرائو کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ نواز شریف کو سمجھنا چاہئے اور اپنے سیاسی مشیروں کو تبدیل کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں امن وامان حکومت کی وجہ سے نہیں بلکہ فوج اور سیکورٹی اداروں کی وجہ سے قائم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج نواز شریف شاہد خاقان عباسی پر اعتبار کررہے ہیں۔ کل وہ اگر ان کا کوئی کام نہیں کریں گے تو وہ اس کو بھی اسکرین سے آئوٹ کردیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کے فیصلے کے بعد ملک میں احتساب کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ جس جس نے کرپشن کی ہے، سب کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا سیاسی مستقبل تاریک ہوگیا ہے۔ جلد وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کے ساتھ ہوں۔ عام انتخابات سے قبل سیاسی اتحادوں کا بننا ایک فطری عمل ہے۔ اب سیاسی پنچھی اپنے گھونسلے تبدیل کریں گے اور نئے گھرانے تلاش کریں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.