وفاق کراچی کی ترقی کیلئے ہر ممکن وسائل بروئے کار لائیگا‘گورنر سندھ

کراچی جدت ویب ڈیسک گورنر سندھ محمد زبیر کی زیر صدارت گورنر ہائوس میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے حوالہ سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا ۔ اجلاس میں وفاقی فنڈنگ سے جاری میگا پروجیکٹس K-IV ، لیاری ایکسپریس وے اور گرین لائن منصوبہ سے متعلق گورنر سندھ کو تفصیلی بریفنگ دی گئی ، جس پر گورنر سندھ نے اپنے اطمینان کا اظہار بھی کیا ۔ اجلاس میں میئر کراچی وسیم اختر ، میئر حیدرآباد طیب حسین، ڈپٹی میئر کراچی ارشد وہرہ ، اراکین قومی اسمبلی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ، کنور نوید ، مزمل قریشی ،پرنسپل سیکریٹری محمد صالح احمد فاروقی ، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن ، کراچی انفرااسٹرکچر ڈیویلپمنٹ کمپنی ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی ، ادارہ فراہمی و نکاسی آب ، لیاری ایکسپریس وے ری سیٹلمنٹ پروجیکٹ کے افسران سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک تھے ۔ اس موقع پر گورنر سندھ نے کہا کہ کراچی پاکستان کی شہ رگ اور معاشی حب ہے جس کی ترقی کے لئے وفاق ہر ممکن وسائل بروئے کار لارہی ہے اس ضمن میں کراچی ترقیاتی پیکج کے تحت شہر میں انفرااسٹرکچر کی بحالی و ترقی ، میگا پروجیکٹس اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے تعمیر کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام کے بعد وفاقی حکومت شہر میں ترقیاتی کاموں پر بھرپور توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے تاکہ آپریشن کے ثمرات عوام تک پہنچائے جا سکیں ، غیر ملکی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ ، نجی سیکٹر کے فعال کردار ، نئی نئی انڈسٹریز کے قیام اور تجارتی و کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ کے باعث شہر میں انفرااسٹرکچر کی بحالی و ترقی نا گزیر ہو چکی ہے با الخصوص صنعتی علاقوں میں انفرااسٹرکچر کی بحالی و ترقی بہت ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک منصوبہ کا سب سے زیادہ فائدہ دو بندر گاہ کے حامل کراچی کو حاصل ہوگا ، منصوبہ کی تکمیل کے بعد معاشی ، اقتصادی ، سماجی ، تجارتی اور سرمایہ کاری میں مزید تیزی سے اضافہ ہو گا ، منصوبہ سے قبل شہر میں انفرااسٹرکچر اور ذرائع آمد و رفت و نقل و حمل کو مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے ، درست سمت میں ترقیاتی کاموں سے سی پیک منصوبہ کی افادیت بھرپور طریقہ سے استفادہ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے کے شمالی حصہ کے تکمیل کے بعد کئی برس سے زیر التواء منصوبہ مکمل ہو جائے گا ، منصوبہ سے شہر سے ٹریفک کے خاتمہ میں نمایاں مدد ملے گی،گرین لائن منصوبہ کراچی کے شہریوں کے لئے وفاقی حکومت کا تحفہ ہے ،منصوبہ سے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ٹرانسپورٹ کی سہولیات عوام کو حاصل ہو سکے گی جبکہ K-IV منصوبہ کی تکمیل سے شہر میں پینے کے صاف پانی کے دیرینہ مسئلہ کے حل میں مدد ملے گی ۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ K-IV کے فیز ٹو کا جلد آغاز کرنے کے لئے ضروری اقدامات کو یقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے تمام اسٹیک ہولڈرز شہر کے وسیع تر مفاد میں کراچی ترقیاتی پیکج کے ضمن میں وفاق سے تعاون کریں کیونکہ عوامی مفاد ہر ایک کی اولین ذاری ہے ، اس سلسلہ میں شہر کی بڑی سیاسی جماعتوں سے مشاورت بھی کی گئی ہے اور ہر ایک اسٹیک ہولڈرز کی آراء کو مدنظر رکھتے ہوئے کراچی ترقیاتی پیکج ترتیب دیا جا رہا ہے، جس کا وزیرا عظم آئندہ چند روز میں کراچی کا دورہ کرکے اعلان کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کا مقصد وفاقی فنڈنگ سے تعمیر ہو نے والے میگا پروجیکٹس کے ضمن میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ کراچی ترقیاتی پیکج کے حوالہ سے تفصیلات سے آگاہی حاصل کرنا مقصود ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ تمام منصوبوں کو مقرر وقت پر ہی ہر صورت مکمل کیا جائے اس ضمن میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی اور کوتاہی کو برادشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ بروقت تکمیل سے منصوبوں کی افادیت سے عوام بھرپور استفادہ حاصل کر سکتے ہیں اور اس سے منصوبوں کی اہمیت بھی واضح ہوسکتی ہے ۔ اجلاس میں کراچی و حیدرآباد کے میئرز اور اراکین قومی اسمبلی نے گورنر سندھ کو یقین دلایا کہ عوامی مسائل کے حل کے لئے وفاقی حکومت کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جائے گا ۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لئے مزید منصوبے بھی شرو ع کئے جائیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.