ماڈل ٹائون کمیشن رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں،طلال چودھری

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری نے کہا ہے کہ ماڈل ٹائون کمیشن رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ 1956 کے قانون کے مطابق حکومت کو حق حاصل ہے وہ رپورٹ شائع کرے یا نہ کرے ۔ رپورٹ آنے کے بعد جو کچھ ہونا ہے وہ پہلے ہو چکا ہے ۔ جمعہ کے روز طلال چودھری نے میڈ یا سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا ہے کہ کمیشن بننے کا سلسلہ 1960 سے پہلے کا جاری ہے اور 1956 کے قانون کے مطابق حکومت کا حق ہے کہ وہ اس سانحہ کی رپورٹ شائع کرے یانہ کرے رپورٹ پیش نہ کرنے والے کو قانونی طور پر کوئی سزا نہیں دی جا سکتی ۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل رپورٹ قانون کے مطابق ثبوت کے طور پر پیش نہیں ہو سکتی اور سانحہ ماڈل ٹائون کا دہشتگردی کی عدالت میں ٹرائل ہو چکا ہے کمیشن رپورٹ پر ایف آئی آر درج ہو سکتی ہے جو کہ پہلے ہو چکی ہے ۔ انہوں نے مزیدکہا کہ نواز شریف کے خاندان کے لئے نئے نئے قانون بنائے جا رہے ہیں ۔ جادوگر شریف خاندان کے متعلق پیش گوئیاں کر رہے ہیں کہ یہ کونسے سے جادوگر ہیں جو بتا دیتے ہیں کہ کونسی درخواست ہو گی اور کیا کارروائی ہو گی ۔ جادوگروں نے پہلے ہی بتا دیا تھا کہ نواز شریف نااہل ہوں گے اور حدیبیہ پیپر ملز کیس دوبارہ کھلے گا وہ کھل گیا اور نواز شریف نااہل ہو گئے اور نظرثانی اپیل مسترد ہونے کا بھی جادو گردوں نے پہلے ہی بتا دیا تھا ان جادو گروں کو سمجھنا ہو گا کہ پاکستان کا پہلے بہت نقصان ہو چکاہے اب مزید نہ کریں کیونکہ سی پیک کو خطرات ہے اس لئے مکل کو درپیش مسائل کے حل کے لئے مل کر کوشش کریں کیونکہ نقصان نواز شریف یا ان کے خاندان کا نہیں بلکہ پاکستان کا ہو رہا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.