کمپنیاں بندہوگئیں ، حکومت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ٹیکسٹائل سیکٹر کو فروغ نہ دے سکی

اسلام آباد جدت ویب ڈیسک :حکومت ملکی معیشت میں اہم کر دار ادا کرنے والے ٹیکسٹائل سیکٹر کو فروغ نہ دے سکی۔ پاکستان بھر میں گزشتہ 5سال کے دوران601 ٹیکسٹائل کمپنیاں بند کی گئیں۔اگر پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ گزشتہ چند سال سے پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کی بر آمدات میں بتدریج کمی ہوئی ہے اور ٹیکسٹائل کی برآمدات میں کمی کی بڑی وجوہات پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش مسائل ہیں۔ یادرہے کہ پاکستان کی برآمدات کا 57 فیصد ٹیکسٹائل پر مبنی ہے لیکن گزشتہ 7 سال کے دوران ٹیکسٹائل کی برآمدات میں11 فیصد تک کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کی بڑی وجوہات پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش مسائل ہیں جس میں ٹیکسٹائل ایسوسی ایشنز کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو جس ریٹ پر بجلی اور گیس ملتی ہے دیگر ممالک میں اس سے کئی گنا کم قیمت پر بجلی اور گیس ٹیکسٹائل سیکٹر کو فراہم کی جا تی ہے۔ اسی طرح ٹیکسٹائل سیکٹر کی جانب سے مختلف ٹیکسز کی مد میں ری فنڈ ز کی عدم ادائیگی یا ادائیگی میں تاخیر کے حوالے سے شدید تحفظات پائے جا تے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکسٹائل کی برآمدات پر انحصار کرنے کے باوجود گزشتہ 5سال کے دوران پاکستان میں 601ٹیکسٹائل کمپنیاں بند ہوئی ہیں۔ کمپنیوں کے بند ہونے کو اگر سال وار دیکھا جائے تو مالی سال 2012-13کے دوران 181ٹیکسٹائل کمپنیاں بند کی گئیں۔ 2013-14 کے دوران 189 کمپنیاں بند ہوئیں۔ 2014-15 کے دوران 105کمپنیاں، 2015-16کے دوران 84 ٹیکسٹائل کمپنیاں بند ہوئیں اور اسی طرح مالی سال 2016-17کے دوران 42 ٹیکسٹائل کمپنیاں بند کی گئیں۔ اس طرح گزشتہ 5 سال کے دوران پاکستان میں مجموعی طور پر 601ٹیکسٹائل کمپنیاں بند ہوئی ہیں۔ دوسری جانب نئی کھلنے والی ٹیکسٹائل کمپنیوں کی تعداد 690کے لگ بھگ ہے تاہم پرانی اور مستحکم کمپنیوں کا بند ہونا ایک قابل غور بات ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published.